سری نگر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت نے تمام مذہبی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما کی سربراہی میں نو تشکیل شدہ وقف بورڈ کے ذریعے خانقاہوں اور مساجد کی تمام مقامی کمیٹیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا اور متنبہ کیا کہ کمیٹیوں کے ذریعے لئے گئے فیصلے قانون کے تحت قابل سزا جرم تصورکئے جائیں گے۔پی پی آئی کے مطابق نام نہاد وقف بورڈ نے حکم نامے میں کہاکہ وقف ایکٹ 1995کے تحت جموں و کشمیر میں نئے وقف بورڈ کی تشکیل کے ساتھ ہی تمام درگاہوں،زیارتوں بشمول دیگر اثاثہ جات اورجائیدادوں کے جو پورے جموں و کشمیر میں مخصوص مسلم وقف کے تحت آتے ہیں، کا مجموعی کنٹرول/انتظام سنبھال لیاگیا ہے۔ حکمنامے میں کہا گیاہے کہ کسی مقامی اوقاف کمیٹی/انتظامیہ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ایسی کسی کمیٹی کی رجسٹریشن جے کے وقف بورڈ سے توثیق شدہ نہیں ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پورے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں تمام مقامی وقف/اوقاف کمیٹیوں کو کالعدم تصور کیا جائے گا اوراس طرح کی مقامی وقف کمیٹیوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی مداخلت کو غیر قانونی سمجھا جائے گا اوراس کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
Next Post
بی جے پی کشمیری پنڈتوں کو ”قربانی کا بکرا”بنا رہی ہے: فاروق عبداللہ مودی کل جماعتی اجلاس بلائیں، معاملہ سنگین ہے، پارلیمنٹ میں اٹھاؤں گا ہندوتوا پارٹی کے بلند دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے:نیشنل کانفرنس
Mon Dec 19 , 2022
سری نگر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوتوا پارٹی علاقے میں حالات معمول کے مطابق ہونے کے جھوٹے دعوے کا پرچار کرنے کے لیے کشمیری پنڈتوں کو […]
