ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ممتاز نعت گو شاعر مظفر وارثی کا یوم پیدائش منایا گیا

کراچی (پی پی آئی)”زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتہ کروں /شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں ” جیسے لاتعداد خوبصورت اشعار کے خالق منفرد لہجے کے ممتاز نعت گو شاعر مظفر وارثی23دسمبر 1933ء میرٹھ، ہندوستان میں پیدا ہوئے اور28جنوری 2011 کو وفات پائی۔پی پی آئی کے مطابق وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے اور لاہور میں بودوباش اختیار کی۔ بہترین نعت گو کا ایوارڈ پاکستان ٹیلی ویژن سے 1980ء میں حاصل کیا۔ غالب اکیڈمی دہلی کی جانب سے بہترین شاعر کا ”افتخار غالب“ ایوارڈ بھی ملا۔ متعدد فلموں کے گانے بھی لکھے مگر جب سے نعت کہنا شروع کی، فلمی گانوں کو خیرباد کہہ دیا۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:”برف کی ناؤ‘(مجموعہ غزل)، ’باب حرم‘(نعت)، ’لہجہ‘(غزل)، ’نورازل‘(نعت)، ’الحمد‘(حمدوثنا)، ’حصار‘(نظم)، ’لہوکی ہریالی‘(گیت)، ’ستاروں کی آب جو‘(قطعات)، ’کھلے دریچے‘، ’بند ہوا‘ (غزل)،’کعبہ عشق‘(نعت)، ’لاشریک‘، ’صاحب التاج‘، ’گئے دنوں کا سراغ‘، ’گہرے پانی‘ شامل ہیں