بریلی کے نہرو اسکول کی پرنسپل ناہید صدیقی اور شکشا متر وزیر الدین کیخلاف مقدمہ
دعا اسکولوں کے شیڈول کا حصہ نہیں، تعلق ایک خاص مذہب سے بھی ہے: محکمہ تعلیم
بریلی(پی پی آئی)بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع بریلی میں فرید پور کے گورنمنٹ کملا نہرو پری سیکنڈری اسکول کے طلباء نے شاعر مشرق علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کر تمنا میری ”پڑھی تو تعلیمی حکام نے محض اس لئے اسکول کی پرنسپل پرنسپل ناہید صدیقی اور شکشا متر وزیر الدین کو معطل کرکے مقدمہ بھی درج کرلیا کہ ہندوتوا تنظیموں نے شاعر مشرق علامہ اقبال کو پاکستانی شاعر اور نظم کو اسلامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نظم میں لفظ “اللہ” بھی آیا ہے کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بریلی کے سرکاری سکول میں صبح کی اسمبلی میں علامہ اقبال کی مشہور نظم ”لب پر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری”نظم پڑھتے ہوئے بچوں کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پرنسپل کو معطل کردیاگیا ہے۔ اس ویڈیو میں بچوں کو “میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو “پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جس پر انتہاپسند ہندوتوا تنظیموں وشوا ہندو پریشد اوردیگر نے سخت اعتراض کیاہے۔ ا ورپرنسپل ناہید صدیقی اور شکشا متر وزیر الدین کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور ماحول خراب کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ہندوتوا تنظیم کی شکایت پر سکول پرنسپل کو معطل کردیاگیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے افسر ونے کمار نے سکول پرنسپل کی معطلی اور شکشا متر کے خلاف انکوائری شروع کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔پولیس نے کہاہے کہ یہ دعا سرکاری اسکولوں کے روزانہ کے شیڈول کا حصہ نہیں ہے اور اس کا تعلق ایک خاص مذہب سے ہے لہذا ہندوتوا تنظیم کی شکایت پر سکول پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا۔
