پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

موجودہ حکومت نے واپس آنے والے طالبان پر توجہ نہیں دی جو دہشت گردی کی وجہ ہے: عمران خان

لاہور(پی پی آ ئی) پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر کی وجہ افغانستان سے لوٹنے والے پاکستانی طالبان کے معاملے میں موجودہ حکومت کا صرف نظر ہے۔ترکی کے اسکالرز اور طلبا سے آن لائن گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور افغانی طالبان میں فرق ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان طالبان کا ساتھ پاکستانی پشتونوں نے دیا اس وقت ان سے کہا گیا کہ یہ جہاں ہے کیونکہ یہ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف ہے لیکن نائن الیون کے بعد امریکہ کے معاملے میں انھیں منع کیا کہ یہ دہشت گردی ہو گی۔ اس لیے وہ پاکستان کے خلاف ہو گئے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے مخالفت کی تھی اس معاملے میں پاکستانی حکومت کو نیوٹرل رہنا چاہیے تھا۔عمران خان نے کہا ’حتی کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی لوگ پاکستان کے خلاف ہو گئے۔ جو ٹی ٹی پی کہلاتے ہیں۔ افغانستان طالبان کا پاکستانی طالبان سے کنکشن نہیں ہے۔ کابل پر قبضے کے بعد افغان طالبان نے پاکستان طالبان سے کہا کہ واپس پاکستان چلے جائیں۔عمران خان نے کہاکہ ’وہ بہترین وقت تھا ان سے مذاکرا ت کر نے کا تاکہ انھیں دوبارہ آباد کیا جا سکتا۔ میری حکومت ان سے رابطے میں تھی۔ 40 ہزار افراد واپس آ رہے تھے جن میں سے 10 ہزار جنگجو تھے اور ان کے خاندان بھی تھے۔ لیکن مجھ سے اختیار لے لیا گیا۔ اور نئی حکومت نے واپس آنے والے طالبان پر توجہ نہیں کی اس لیے اب پاکستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر موجود ہے۔انہوں نے زور دیا کے اس پر قابو پانا ہوگا ’اس سے پہلے کے بات ہاتھ سے نکل جائے۔