ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پی ٹی آئی میں بہت سارے دوست لیکں میں ن لیگ ہی میں ہوں:مفتاح اسماعیل

مجھے وزیر بنانا اور ہٹانا وزیرِ اعظم کی صوابدید ہے،مستقبل میں الیکشن میں حصہ نہیں لوں گا
میرے علم میں نہیں کہ ڈار کو کیوں لایا گیا لیکن ان کی کوششوں سے پاکستان کو بڑا نقصان ہوا
کراچی (پی پی آئی)مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں بہت سارے دوست ہیں، میں مسلم لیگ ن میں ہی ہوں اور مستقبل میں الیکشن میں حصہ نہیں لوں گا، مجھے وزیر بنانا وزیرِ اعظم کا حق ہے اور ہٹانا بھی انہی کی صوابدید ہے۔ پی پی آئی کے مطابق مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’مجھے علم نہیں کہ ڈار صاحب کو کیوں لایا گیا لیکن انہوں نے کوشش کی جس سے پاکستان کو بڑا نقصان ہوا‘۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے پبلک میں میرے خلاف بات کی، میری صلاحیت پر سوالات اٹھائے جس کا میں نے جواب دیا، پارٹی نے میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے سوچا کہ شاید وہ ا?ئی ایم ایف کے بغیر چل سکتے ہیں، حکومت اس بات پر راضی ہو گئی ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننی پڑیں گی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہمیں امپورٹ کم اور ایکسپورٹ کو بڑھانا پڑے گا، آئی ایم ایف کی شرائط کو مان کر طویل مدتی کام کیا جاسکتا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا ہے کہ ہر ملک ہم سے ا?گے نکل رہا ہے تو ہمارے ملک میں گورننس ٹھیک نہیں، ہمیں ملک میں گورننس ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے جمہوری طرز اور صدارتی نظام حکومت بھی ا?زما کردیکھ لیا، ا?مریت بھی دیکھ لی،ایک چھوٹی سی ایلیٹ پاکستان کے تمام فیصلے کررہی ہوتی ہے، ملک میں عجیب سا ایلیٹ سسٹم قائم ہو چکا ہے، جسے ہٹانا پڑے گا۔مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ نچلے طبقے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ہم بھی سسٹم کو نہیں بدل سکے، ہم بھی قصور وار ہیں، مقامی سطح پر جب تک اختیارات منتقل نہیں ہوں گے تو گورننس ٹھیک نہیں ہو گی۔