عالمی و ملکی گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان آرمی ٹیم کو بین الاقوامی پیس اسٹیکنگ کی فتح پر گورنر سندھ کی مبارک باد

بجٹ 2026-27 مایوس کن، کمرشل امپورٹرز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، پی سی ڈی ایم اے

گورنر ہاو س میں عالمی یومِ ماحولیات شجرکاری مہم کا آغاز ،ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے:گورنر سندھ کی اپیل

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پرشدید پانی کی شدید قلت کیخلاف کسانوں کا احتجاج

کراچی بھینس کالونی میں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے غیر معیاری تیل تیار کرنے والی غیر قانونی فیکٹری سربہ مہر

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات چھوڑ کر، وفاق کے ساتھ مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا

دہشتگردوں کو پناہ دینے کیلئے آپ آگے بڑھ رہے ہیں مگر اپنوں سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں: شہباز شریف

پشاور(پی پی آ ئی) وزیر اعظم شہباز شریف نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا ہے کہ پشاوردھماکے میں سیکیورٹی لیپس ہوا، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز پشاور میں وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی اجلاس کا اجلاس ہوا، جس میں پشاور پولیس لائنز مسجد دھماکے اور امن و مان کی صورت ھال پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ 30 جنوری کو پشاورمیں پولیس لائنز مسجد میں نمازیوں کو شہید کیا گیا،آج یہاں شہداکے ایصال ثواب اور اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایک طرف دہشتگردوں کو یہاں بسانے کے لیے لایا گیا مگر دوسری طرف ملک کی تقدیر کے لیے ’آپ اپنوں سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر قسم کے اختلافات چاہے سیاسی، مذہبی یا علاقائی، ان تمام کو ایک طرف کر کے ایک قوم کی طرح خود کو ڈھالنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ’تمام آئینی ادارے جب تک قوم کو اکٹھا نہیں کریں گے تو بات نہیں بنے گی۔انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا ورنہ ہم یہ مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ ’کل تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اجتماع کو منگل کو اے پی سی میں مدعو کیا ہے۔ چاہے ان سے اختلاف ہے یا اتحاد ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے پشاور دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کیلئے 20 لاکھ اور زخمیوں کیلئے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی قریب کے برسوں میں ضرب عضب اور ردالفساد کے معرکوں کے نتیجے میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوا تھا۔ ہمارے ناقدین بھی یقین کرتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں پھیلی دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا۔ اس میں افواج پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں۔