عالمی و ملکی گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان آرمی ٹیم کو بین الاقوامی پیس اسٹیکنگ کی فتح پر گورنر سندھ کی مبارک باد

بجٹ 2026-27 مایوس کن، کمرشل امپورٹرز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، پی سی ڈی ایم اے

گورنر ہاو س میں عالمی یومِ ماحولیات شجرکاری مہم کا آغاز ،ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے:گورنر سندھ کی اپیل

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پرشدید پانی کی شدید قلت کیخلاف کسانوں کا احتجاج

کراچی بھینس کالونی میں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے غیر معیاری تیل تیار کرنے والی غیر قانونی فیکٹری سربہ مہر

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اسامہ ستی قتل کیس میں 2 ملزمان کو پھانسی، 3 کو عمر قید کاحکم

اسلام آباد (پی پی آئی) اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے اسامہ ستی قتل کیس میں دو ملزمان کو سزائے موت اور تین کو عمر قیدکاحکم سنا یاہے۔افتخار احمد اور محمد مصطفیٰ کو سزائے موت جبکہ سعید احمد، شکیل احمد اور مدثر مختار کو عمر قید سنائی گئی ہے، پی پی آئی کے مطابق یکم فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جج زیبا چوہدری نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، نوجوان اسامہ ستی کو جنوری 2021ء میں سرینگر ہائی وے پر رات ڈیڑھ بجے قتل کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ جنوری 2021 میں اسامہ ستی نامی طالبعلم اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا تھا۔جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں اے ٹی ایس اہلکاروں کو اسامہ ستی کے قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا تھا جب کہ پانچوں اہلکاروں کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی تھی۔پولیس اہلکاروں کومس کنڈکٹ اور قصوروارثابت ہونے پر برطرف کر دیا گیا تھا۔ اسلام آباد کے سیکٹرجی10 میں اے ٹی ایس اہلکاروں کی فائرنگ سے اسامہ نامی طالبعلم ہلاک ہونے کے بعد ایف آئی آر تھانہ رمنا میں درج کی گئی تھی۔جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے مطابق اسامہ ستی کی گاڑی پر 22 گولیوں برسائی گئیں جب کہ قتل کو چار گھنٹے تک فیملی سے چھپایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس افسران ریسکو کرنے والی گاڑی کو غلط لوکیشن بتاتے رہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے وقوعہ کو ڈکیتی بنانے کی کوشش کی۔ مگر اسامہ ستّی کا کسی ڈکیتی یا جرم سے کوئی واسطہ ثابت نہیں ہوا۔