خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسماری مہم کو فوری طور پر روکا جائے، متاثرین کو معاوضہ دیاجائے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

سری نگر(پی پی آ ئی)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسماری مہم کو فوری طور پر روکنے اور متاثرہ افراد کو معاوضہ د ینے کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیر میٖڈیا کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا بورڈ کے سربراہ آکار پٹیل نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرینگر، بڈگام، اسلام آباد اور بارہمولہ سمیت مختلف اضلاع میں 4فروری سے جاری مکانات اور کاروبار کی مسماری مہم پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ یہ مہم بھارت کے زیر انتظام واحد مسلم اکثریتی خطے جموں و کشمیرمیں جاری انسانی حقوق کی ظالمانہ خلاف ورزیوں میں ایک اوراضافہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسماری مہم جبری بے دخلی کے مترادف ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت جس کا بھارت ایک فریق ہے، ہر ایک کو مناسب رہائش کا حق حاصل ہے اوراس کے تحت جبری بے دخلی پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں جائز ہو، بے دخلی معقولیت اور اصولوں کے مطابق کی جانی چاہیے اور اس میں معقول اور مناسب نوٹس دینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکام کو فوری طور پر مسماری مہم کو روکنا چاہیے اور جبری بے دخلی کے خلاف حفاظتی اقدامات کی یقینی بنانا چاہیے جس طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات میں بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بغیر کسی امتیاز کے تمام متاثرہ افراد کو مناسب معاوضہ دیاجانا چاہیے۔اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جبری بے دخلی کے متاثرین اس کا ازالہ کرسکیں اور ذمہ داروں کا احتساب کتاب کیا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ قابض حکام نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد انسداد تجاوزات مہم کے نام پرلوگوں کے رہائشی مکانات اور دیگر املاک کو مسمار کیا ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور ان کے پاس جائیدادوں کی ملکیت ثابت کرنے والی دستاویزات موجود ہیں لیکن قابض حکام نے انہیں گھروں پر بلڈوزر چلانے سے پہلے اپنے دعوے ثابت کرنے کا موقع نہیں دیا۔