شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آٹے کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں پر جرمانے اور قید کا فیصلہ

لاہور(پی پی آ ئی) پنجاب میں آٹے کی اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو قید اور ان پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی زیرصدارت کابینہ اجلاس ہوا، جس میں نئے قانون کی منظوری دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ آٹے کی اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو قید اور ان پر جرمانے عائد کئے جائیں گے۔اجلاس میں پنجاب میں آٹا لازمی انسانی ضرورت قرار دے کر نیا قانون منظور کر لیا گیا، اور چینی، گندم، چاول، گھی اورکوکنگ آئل کے ساتھ آٹا بھی لازمی اشیا ضرورت کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔نئے قانونی دستاویزات کے مطابق آٹے کی اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی پر 3 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔قانون کے مطابق فلور ملز مالکان کو آٹے کی پروڈکشن، فروخت اور اسٹاکس کا حساب دینا ہوگا، اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کے لئے استعمال ہونے والے گودام کا مالک اور مینجر بھی مجرم قرار پائیں گے۔پنجاب حکومت کے مطابق صرف لاہورمیں گندم پرمارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں روزانہ 29 کروڑ روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔