شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

قبائلی علاقوں میں مفت بجلی کا دورانیہ2گھنٹے کرنے پر احتجاج

6گھنٹے مفت بجلی کا مطالبہ، ماضی میں 10 گھنٹے مفت بجلی دی جاتی تھی
وفاق سالانہ 18 ارب روپے سبسڈی میں دیا کرتا تھا اب بند کردی
بے دریغ استعمال کے باعث ضلع خیبر میں جنوری کابل 73 کروڑ روپے
لنڈی کوتل(پی پی آئی)قبائلی علاقوں میں مفت بجلی کا دورانیہ24گھنٹوں میں محض2 گھنٹے کرنے پر ضلع خیبر کی تین تحصیلوں میں احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ ان علاقوں کے مکینوں کو اس سے قبل 10 گھنٹے مفت بجلی فراہم کی جاتی تھی جسے بتدریج کم کر کے دو گھنٹے کر دیا گیا ہے۔خیبر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے گرڈ ا سٹیشنز کا گھیراؤ بھی کیا جبکہ بجلی کی سپلائی لائن پر بھی زنجیر ڈال کر سپلائی بند کر دی گئی ہے۔لنڈی کوتل میں مظاہرین چھ گھنٹے مفت بجلی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔احتجاجی دھرنے میں مظاہرین نے پاک افغان شاہراہ کو مکمل طور پر بند کر دیا جس سے افغانستان کو تجارتی راستہ بند ہو گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہسابقہ قبائلی اضلاع کو مفت بجلی دیتی تھی جس کے لیے وفاقی حکومت سے سالانہ 18 ارب روپے سبسڈی ملاکرتی تھی اب ایک طرف یونٹ کا ریٹ بھی بڑھ گیا ہے جبکہ بجلی کے بے دریغ استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔صرف ضلع خیبر کا ماہ جنوری کا بل 73 کروڑ روپے بنا ہے، جس سے بجلی کے زیادہ استعمال کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ سبسڈی نہ ہونے کی بنا پر قبائلی علاقوں کی بجلی کا دورانیہ دو گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ اگر بے دریغ استعمال نہ کیا جاتا تو دورانیہ بڑھ سکتا تھا۔