ادیب، دانشور اور صحافی عافیہ کی رہائی کیلیے کردار ادا کریں:گلوبل عافیہ موومنٹ

پاکستانی خواتین کو باعزت روزگار اور تحفظ فراہم کیا جائے:پاسبان

بلدیاتی نظام میں ترامیم لا کر ے بلدیاتی نظام کو مفلوج کیا گیا: مئیر تحصیل ایبٹ آباد

نوشہرو فیروز میں گھریلو ناچاقی پر خاتون نے بچے سمیت دریا سندھ میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی

عزاداروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں میئر مئیر میر پور خاص کے دورے

غیر ملکی کرنسی کی شرحوں میں معمولی کمی ، ڈالر انٹربینک ریٹ 278.42 روپے پر بند

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری خواتین شہید اور لاتعداد کی عصمت دری

بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 22ہزار957 خواتین بیوہ ہوئیں
ہزاروں نے بیٹوں، شوہروں، والدین، بھائیوں کو کھودیا یوم خواتین پررپورٹ
سری نگر (پی پی آئی) عالمی یوم خواتین کے موقع پر جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں کشمیری خواتین کو مسلسل مظالم، مشکلات اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جنوری 2001سے لے کر رواں سال فروری تک بھارتی فوجیوں نے کم سے کم 682خواتین کوشہید کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 1989سے اب تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 22ہزار957 خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فورسز اہلکاروں نے اس دوران 11ہزار256خواتین کی عصمت دری کی۔ مقبوضہ علاقے میں ہزاروں خواتین نے بیٹوں، شوہروں، والد اور بھائیوں کو کھودیا ہے جنہیں بھارتی فوج، پولیس اور پیراملٹری فورسز کے اہلکاروں نے دوران حراست لاپتہ کردیا۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ حریت رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت دو درجن سے زائد کشمیری خواتین اور لڑکیاں مقبوضہ کشمیراور بھارت کی مختلف جیلوں میں غیر قان طورپر نظربند ہیں۔ انہیں جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات اور ان کے حق خود ارادیت کے مطالبے کی نمائندگی کرنے پرانتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ کشمیری خواتین مسلسل انصاف سے محروم ہیں جبکہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث بھارتی فوجی مسلسل آزاد گھوم رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت دی گئی استثنیٰ ک سانحات کی بنیادی وجہ اوراجتماعی عصمت دری مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک بدنما داغ ہے جو مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ریاستی دہشت گردی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ک۔رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو توڑنے کے لیے عصمت دری کو فوجی حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔بھارت پر کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے دباؤ ڈالا جانا چاہیے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور بھارت کو کشمیریوں کے خلاف اس کی فوجوں کے ذریعے کیے گئے گھنانے جرائم کا جوابدہ ٹھہرایاجانا چاہیے۔