‫ریاؤ کمپلیکس نے ملازمین کی رہائش کے لیے ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے، جہاں ایشیا پیسیفک رے آن کے ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو جامع سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ضلع بدین سرکاری تقرریوں میں میرٹ نظرانداز کر نے کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج

اوکاڑہ میں کھدائی کے دوران تودا گرنے سے ایک مزدور جان بحق ، دوسرے کی حالت تشویشناک

اے این پی باجوڑ کے رکن ڈاکٹر طارق کے بھائی عبدالرزاق قاتلانہ حملے میں جاں بحق

برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے لندن میں ریلی

پاکستان کا مستقبل سڑکوں اور ُپلوں سے نہیں، تعلیم یافتہ بچوں سے محفوظ ہوگا:پاسبان

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نجکاری ہی واحد حل، پی آئی اے، پاکستان ا سٹیل اور ریلوے ملکی خزانے پر بوجھ قرار

معروف کاروباری شخصیت حنیف گوہر نیتینوں اداروں کو ملکی خزانے پر بوجھ قرار دے دیا
کراچی (پی پی آئی) معروف کاروباری شخصیت، ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر، آباد کے سابق چیئرمین اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) سندھ کے سیکرٹری جنرل حنیف گوہر نے پاکستان اور پاکستان کی معیشت کو بچانے کے لیے حکومت اور مقتدر حلقوں کو اپنی تجاویز بھیجی ہیں۔پی پی آئی کے مطابقانہوں نے اپنی تجاویز میں کہا کہ پی آئی اے، پاکستان سٹیل اور پاکستان ریلوے قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور تینوں اداروں کا سالانہ خسارہ اتنا ہے کہ اگر ان کی نجکاری کر دی جائے تو پاکستان کے پیچیدہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اپنی ریلوے کی نجکاری کی ہے جسے ٹاٹا گروپ نے خریدا تھا اور اب اس میں بہت زیادہ مراعات کے ساتھ نمایاں بہتری آئی ہے۔اس کے علاوہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بڑی وجہ، ملکی برآمدات کے مقابلے میں ملک میں درآمدات دوگنی رہیں، گزشتہ سال 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا کیونکہ 80 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے برآمدات اور ترسیلات مجموعی طور پر 60 ارب ڈالر تھیں اور اگر ترسیلات زر کو چھوڑ دیا جائے تو نقصان 40 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گا۔انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے، بند پاکستان سٹیل، پاکستان ریلوے کو کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے اور ان اداروں کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم سے ملک کا تقریباً سارا قرضہ اتار دیا جائے۔حنیف گوہر کا کہنا تھا کہ بنڈل آئرلینڈ جو کہ آمدنی کا اچھا ذریعہ ہے لیکن اس پر کام نہیں کیا گیا اور اسے سیاست کی نذر کر دیا گیا،۔ پاکستان کے طاقتور اور مراعات یافتہ طبقے کو تقریباً 4250 ارب روپے کی رعایتیں ملتی ہیں جس میں ٹیکس میں چھوٹ، صنعتوں میں بجلی اور گیس پر سبسڈی، مفت پیٹرول اور پلاٹ شامل ہیں۔