ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

’ڈالر کی قلت سے دوچار‘ پاکستان کو عالمی ایئر لائنز کو ادائیگیاں کرنے میں مشکلات کا سامنا

کراچی (پی پی آئی)ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ادائیگیوں کے عدم توازن کا شکار ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں،مالی بحران نے دیگر شعبوں کی طرح ہوا بازی کی صنعت کو بھی متاثر کیا جہاں ایئر لائنز مقامی کرنسی میں ٹکٹ فروخت کرتی ہیں لیکن ایندھن جیسے اخراجات کی ادائیگی کے لیے ڈالر میں ادائیگیاں کرتی ہیں۔رواں ماہ کے شروع میں سینیٹ قائمہ کمیٹی ایوی ایشن نے وزارت ہوا بازی کو سفارش کی تھی کہ وہ ایئرلائن کے سربراہوں سے ملاقات کر کے ’پاکستان کے بارے میں منفی رائے کو دور کرے‘ اور انہیں معمول کے مطابق آپریشن دوبارہ شروع کرنے پر راضی کرے۔عاایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے کہا کہ وہ ایئر لائنز کو وقت پر ادائیگی کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس معاملے پر متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیاہے کہ ایئرلائنز کے لیے پاکستان میں سروسز جاری رکھنا ’بہت مشکل‘ ہو گیا ہے جب کہ وہ اپنے واجبات کی واپسی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں جو ڈالر میں ادا کیے جاتے ہیں۔83 فیصد عالمی فضائی ٹریفک پر مشتمل تقریباً 300 ایئر لائنز کی نمائندہ تنظیم انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ جنوری تک پاکستان میں 29 کروڑ ڈالر پھنسے ہوئے ہیں جو دسمبر کے بعد سے تقریباً ایک تہائی زیادہ ہیں۔ ڈی جی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی خاقان مرتضیٰ نے تصدیق کی کہ ایئرلائنز کو ادائیگیوں میں کچھ تاخیر کا سامنا ہے لیکن اتھارٹی ایئر لائنز کو بروقت ادائیگیوں کے لیے اسٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ سے رابطے میں ہے۔دسمبر 2022 میں عالمی ہوا بازی کے ادارے نے کہا کہ پاکستان نے عالمی ایئر لائنز کے واجب الادا 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کو روک دیا ہے جس کے بعد یہ ان سرفہرست منڈیوں میں سے ایک ہوگئی ہے جہاں ایئرلائن کے فنڈز کو وطن واپسی سے روک دیا گیا ہے۔