عالمی و ملکی گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان آرمی ٹیم کو بین الاقوامی پیس اسٹیکنگ کی فتح پر گورنر سندھ کی مبارک باد

بجٹ 2026-27 مایوس کن، کمرشل امپورٹرز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، پی سی ڈی ایم اے

گورنر ہاو س میں عالمی یومِ ماحولیات شجرکاری مہم کا آغاز ،ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے:گورنر سندھ کی اپیل

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پرشدید پانی کی شدید قلت کیخلاف کسانوں کا احتجاج

کراچی بھینس کالونی میں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے غیر معیاری تیل تیار کرنے والی غیر قانونی فیکٹری سربہ مہر

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سرکاری ملازمین کیلئے سوشل میڈیا قوانین مودی حکو مت کی کھلی دھمکی ہے: محبوبہ مفتی مقبوضہ کشمیر،محبوبہ مفتی، یوسف تاریگامی کی کشمیری ملازمین کیلئے نئے سوشل میڈیاقوانین کی مذمت

سری نگر(پی پی آئی) بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے نئے سوشل میڈیا قوانین لوگوں کو ان کی روزی روٹی سے محروم کرنے کی کھلی دھمکی ہے۔محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ چاہے ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کر نے کا مسئلہ ہو یاملازمین پر سوشل میڈیا کی پابندی، یہ جموں و کشمیر میں لوگوں کو ان کی روزی روٹی سے محروم کرنے کی کھلی دھمکیاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکام لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جج، جیوری اور جلاد بن چکے ہیں۔کشمیر میڈیا کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے بھی قابض انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بطور شہری تمام جائز آئینی حقوق سے دستبردارہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو ان سے متعلق مسائل کے بارے میں اظہار خیال سے روکنا ان کے بنیادی حقوق چھیننے کے مترادف ہے، ملازم غلام نہیں ہوتا، وہ سرکاری کاموں کے لیے حکومت کو اپنی خدمات پیش کرتا ہے، لیکن وہ خود کو بیچ نہیں دیتا۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک شہری کو اس کے آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور اگر ایسا کیا گیا،تو یہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگا۔خیال رہے کہ قابض انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر سرکاری پالیسیوں یا اقدامات پر تنقید کرنے والے ملازمین کو ملازمت سے برطرفی سمیت سخت تادیبی کارروائی کرنے کا انتباہ جاری کیاہے۔