روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عدالتی اصلاحات بل، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دینے کی استدا مسترد کردی، سیاسی جماعتوں اور وکلاتنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے، یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے، سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کردیا، سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023کیخلاف مختلف درخواستیں دائر کی گئیں، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا بل کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات پر قدغن لگائی جارہی ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور وکلاتنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں شامل دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اظہر حسن رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔