متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

غیر قانونی بھارتی اقدامات نے کشمیر کاز کو نئی زندگی دی ہے:بلاول بھٹو

کراچی(پی پی آ ئی) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے دورہ بھارت کو ’کامیاب‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اس ’جھوٹے پروپیگنڈے‘کی نفی کر دی گئی ہے کہ مسلمان دہشت گردہیں۔وزیر خارجہ نے یہ بات بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے بعد پاکستان واپسی پر کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یہ مفروضہ پھیلا رہی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان دہشت ہیں اورہم نے اس مفروضے کو توڑنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد ہے تاکہ نفرت پھیلے اور وہ الیکشن جیت سکے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کریں اور اگر ہم تقسیم رہے تو اس کا شکار ہوتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑنے کا بیانیہ پوری دنیا نے مسترد کر دیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا دنیا نے اعتراف کیا ہے۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ بھارت ایک اور جھوٹ پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نمائندے کشمیر پر بھارت کے بیانیے کا مقابلہ کرتے رہے۔ جس چیز نے بھارت کو مایوس کیا وہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کا 5 اگست 2019 کے بھارتی حکومت کے اقدامات کو قبول کرنے سے انکارہے جب اس نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بھارتی غیر قانونی اقدام نے کشمیر کاز کو نئی زندگی دی ہے۔بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ بھارت کب تک بین الاقوامی قوانین اور یو این ایس سی کی قراردادوں سے انکار کر سکتا ہے یا کشمیر میں رائے شماری سے کب تک بھاگ سکتا ہے۔