پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نیب نے توہین عدالت کی ہے، اب کوئی شخص بھی عدالت میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرے گا: چیف جسٹس

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیسے کسی شخص کو سپریم کورٹ ہائی کورٹ یا احتساب عدالت سے گرفتار کیا جا سکتا ہے جبکہ وہ خود کو سرنڈر کر چکا ہو،اس واقعہ کے بعد کوئی شخص بھی عدالت میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرے گا،نیب نے توہین عدالت کی ہے اور انھوں نے عدالتی تقدس کو پامال کیا ہے۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تھے، عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے جب رینجرز کمرے کا دروازہ توڑ کر داخل ہوئی، رینجرز نے عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کو گرفتار کیا، عمران خان کو 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’نیب حکام نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے، نیب کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کو ایسے ہی گرفتار کرتا ہے۔ تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست دی رکھی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کیس کی سماعت کررہا ہے، بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔