ایچ آر سی پی کی آرمی ایکٹ کو عام شہریوں کے ٹرائل کیلئے استعمال کرنے کی مخالفت

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) ہیومن رائٹس کمیشن(ایچ آ ر سی پی) کی آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو عام شہریوں کے ٹرائل کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کر دی ہے۔ اپنے بیان میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کو عام شہریوں کے ٹرائل کے لیے استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ احتجاج کے دوران آتشزدگی اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا چاہیے، لیکن وہ مناسب کارروائی کے حقدار ہیں۔ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ ماضی میں جن شہریوں پر ان ایکٹس کے تحت مقدمہ چلایا گیا ان کے مقدمات بھی سول عدالتوں میں منتقل ہونے چاہئیں۔