پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وفاقی کابینہ کا اجلاس قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق، ایران سے تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 16 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے جبکہ ایران کے ساتھ مختلف شعبوں پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ ارکان کو دورہ ایران سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیر اعظن نے کہا کہ ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، 900 کلومیٹر طویل پاک،ایران سرحد پر سکیورٹی میں مزید بہتری لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران سے کم لاگت بجلی کی درآمد سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ وزیر خارجہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد ایران کا دورہ کرے گا تاکہ اِن امور پر ٹھوس پیش رفت ہو۔اس کے علاوہ وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو سعودی عرب کے ساتھ منگل کے روز دستخط کیے گئے ’روڈ ٹو مکہ‘ معاہدے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جس سے پاکستانی حجاج کی کثیر تعداد مستفید ہو سکے گی۔ اس معاہدے کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ سے 26143پاکستانی حجاج کی امیگریشن کا عمل اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی ہوگا اور وہ سعودی ایئرپورٹ پر لمبے انتظار سے بچ جائیں گے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کل سے شروع ہو چکا ہے۔وفاقی کابینہ نے روالپنڈی میں انشورنس ٹریبونل قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ اس نئے ٹریبونل پر کوئی اضافی اخراجات نہیں آئیں گے بلکہ موجودہ احتساب عدالت نمبر چار کو انشورنس ٹریبونل میں تبدیل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نے رائے دی کہ فوجی املاک کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلایا جائے جبکہ سول املاک کا ٹرائل سول عدالتوں میں چلایا جائے، جن شہروں میں فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے فوجی عدالتیں وہیں پر قائم کی جائیں۔