شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سوشل میڈیا پر خواتین سے بدسلوکی کی پرانی تصاویر اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں:آئی جی پنجاب

لاہور(پی پی آ ئی) آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین سے بدسلوکی کی پرانی تصاویر اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آ ئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان کا ریکارڈ نادرا سے چیک کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو یا تصاویر لگوائیں، جن کے ذریعے ان کو گرفتار کیا گیا۔ جیو فینسنگ کے ذریعے بھی لوگوں کا پتہ چلا،واٹس ایپ گروپس سے بھی پتہ چلا، جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں ہدایات تھیں۔ گرفتار لوگوں نے بھی دوسرے ملزمان کے بارے میں بتایا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے متعدد سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ان میں سے کوئی بھی حالیہ واقعات کی نہیں ہے۔کسی نے کہا کہ جیل سے رہا ہونے والی خاتون کے جسم پر کٹ کے نشان تھے۔ جو لوگ جھوٹ بول رہے ہیں ان کو شرم آنی چاہیے۔ خواتین سے لیڈی پولیس کے علاوہ کسی نے تفتیش نہیں کی۔آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ ’کسی ایک خاتون کے ساتھ اگر زیادتی ہوئی تو ہم ذمہ دار ہوں گے۔ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انوش نے بتایا کہ ’میں جیل میں جا کر خواتین سے ملی ہوں، مرد اس حصے میں داخل ہی نہیں ہو سکتے جہاں خواتین موجود ہیں۔ایس ایس پی نے بتایا کہ ’ہم کسی کو سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں دے سکتے۔‘ انھوں نے کہا کہ خدیجہ شاہ کو دمہ کا مسئلہ تھا اور ان کو ضروری ادویات دی گئی ہیں۔