ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، ریلیف ملنا ان کا حق ہے: رانا ثنااللہ

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ دفاعی تنصیبات اور املاک پر حملوں کے آرکیٹیکٹ سابق وزیر اعظم عمران خان خود ہیں جن کی گرفتاری ضرور ہوگی،نواز شریف کو ریلیف ملنا چاہیے یہ ان کا حق بنتا ہے، نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، جب الیکشن ہوگا تو نواز شریف واپس آکر پارٹی کو لیڈ کریں گے۔نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان اس سارے معاملے کے آرکیٹیکٹ ہیں، عمران خان نے نفرت کی سیاست نوجوانوں کے ذہنوں میں اتاری، میری اندازے سے عمران خان کی گرفتاری ضرور ہوگی، یہ انویسٹی گیشن ٹیم اور انویسٹی گیشن ایجنسیز کا اختیار ہے کہ وہ کس کو کس حد تک گنہگار ٹھہراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی ردعمل نہیں آیا، کسی شہر میں دس یا بیس ہزار لوگ جمع نہیں ہوئے، اڑھائی یا تین سو لوگوں کو ٹرینڈ کیا گیا تھا اور ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں، پورے ملک میں چند سو لوگوں نے عمران خان کی گرفتاری پر یہ ردعمل دیا، اگر دوبارہ ایسی چیز ہوئی تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نمٹا جائے گا۔رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا، ریڈیو پاکستان کی تاریخی بلڈنگ کو جلایا گیا، کیا کبھی کوئی سوچ سکتا ہے کہ شہداکی نشانیوں کی بے حرمتی کی جائے۔اگر کوئی نئی جماعت بنتی ہے تو وہ بنے، عوام جس کو چاہے ووٹ دیں، پیپلز پارٹی کو بھی پورا حق ہے کہ وہ پنجاب میں اپنے پاؤں جمائیں، ہمارا بھی پورا حق بنتا ہے کہ ہم سندھ میں اپنے پاؤں جمائیں، نئی پارٹی معرض وجود میں آتی ہے اور وہ نفرت کے راستے پر نہیں چلتی تو اس کے لیے گنجائش ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں انہوں نے پہلے بھی پارٹیاں چھوڑی ہیں، کسی نے ان کو پارٹی چھوڑنے کا نہیں کہا، وہ اپنی مرضی سے سارا کام کر رہے ہیں، ہمارے پاس اتنی بھاری گنجائش نہیں کہ سب لوگوں کو لے سکیں۔