ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

لاہور سمیت 11 اضلاع میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی نظربندی کالعدم قرار

لاہور(پی پی آ ئی)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے 11 اضلاع میں نو مئی کے بعد تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی نظری بندی کے احکامات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق جسٹس صفدر سلیم شاہد نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر افراد کی نظر بندی کے احکامات کے خلاف متفرق درخواستوں پر فیصلہ جمعرات کو جاری کیا۔اس فیصلے کے مطابق لاہور، وزیرآباد، جھنگ، شیخوپوہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، منڈی بہاؤ الدین، گجرات، ننکانہ صاحب، گجرانولہ اور نارووال میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی لیڈر کی گرفتاری پر ملک بھر میں افسوسناک ردعمل آیا لیکن بغیر مقدمات کے شہریوں کو اٹھا کر جیلوں میں ڈالنا افسوسناک ہے۔فیصلے کے مطابق امن و امان قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری تھی اور نو مئی کے بعد حکومت نے بغیر سوچے سمجھے لاتعداد نظر بندی کے احکامات جاری کیے جبکہ اس کے پاس اگر کوئی شواہد موجود تھے تو فوجداری مقدمات میں گرفتاری کے لیے بہت وقت تھا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ہر نوٹیفکیشن میں صرف ڈی پی او کی رپورٹ پر شہریوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق ڈپٹی کمشنرز کا نظربندی کا فیصلہ خود پبلک مینٹیس آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3 کی خلاف ورزی ہے اس لیے تمام نظر بند افراد کو فوری طور رہا کیا جائے۔