ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس ایکٹ

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے درخواستوں پر
سماعت کے دوران مسلم لیگ ق نے ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کر دی ہے۔مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروایا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایکٹ سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں اضافہ ہو گا۔مسلم لیگ ق کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملک میں چلنے والی وکلا تحریک کے بعد ریفارمز کے موقع کو گنوا دیا گیا۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایکٹ کاسیکشن 4 سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو وسیع کرتا ہے۔جس پر مسلم لیگ ق نے موقف دیا کہ ایکٹ کا سیکشن 3 عدلیہ کے 184(3) کے اختیار کے استعمال کو کم نہیں کرتا۔ سیکشن 3 چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار کے بے ترتیب استعمال کو سینئر ججز کے ساتھ مل کر استعمال کا کہتا ہے۔مسلم لیگ ق نے موقف دیا ہے کہ کمیٹی کے جانب سے مقدمات کے مقرر کرنا از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے عوام کا اعتماد بڑھے گا۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابقہ چیف جسٹسز افتخار چوہدری، گلزار احمد، ثاقب نثار کی جانب اختیارات کا متحرک استعمال کیا گیا۔ چیف جسٹس کے اختیارات کے استعمال کے نتائج سٹیل مل، پی کے ایل ائی اور نسلہ ٹاور کی صورت میں سامنے آئے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی سے ایسے نتائج سے بچا جا سکتا تھا۔مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ آزاد عدلیہ کا مطلب ہر جج کے بغیر پابندی، دباؤ اور مداخلت کے فرائض کی انجام دہی ہے۔