پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع

پشاور(پی پی آئی)خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں میں مبینہ طورپر551 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔کے پی حکومت کے ماتحت 10 محکموں میں 1 ارب 70 کروڑ روپے کی غبن اور بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے، ان اداروں میں اربوں روپے کے غبن اورفراڈ کے دودرجن کیس سامنے آئے۔انوسٹی گیشن ٹیم نے صوبے کی آڈٹ رپورٹ 2022-23 حاصل کرلی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق اٹھارہ مختلف کیسز میں 52 کروڑ کی مبینہ غبن اورمالی بدانتظامی سامنے آئی۔خیبرپختونخوا حکومت کے دعوؤں کے مطابق کے صحت اور تعلیم میں ریکارڈ ریفارمز کئے۔ آڈٹ رپورٹ نے ان دعوؤں کی مکمل نفی کی۔ محکمہ صحت میں 45 کروڑ کے غبن بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جبکہ محکمہ تعلیم میں مجموعہ 11 کروڑ سے زائد کی غبن ریکارڈ ہوئی۔وزیراعلیٰ کے پی کے کے دفتر میں 1 کروڑ 20 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا، جبکہ ایک کروڑ سے زائد کا فراڈ وزیراعلیٰ سیکرٹیریٹ میں ملازمین کو اعزازیہ دینے کی مد میں ہوا۔محکمہ داخلہ اور قبائلی امور میں 26 کروڑ سے زائد کی غبن، فراڈ اورمالی بدانتظامی کا انکشاف، محکمہ لوکل گورنمنٹ میں 19 کروڑ سے زائد روپے کا فراڈ اور غبن ہوئی، کھیل، ثقافت اور سیاحت میں 4 کروڑ کا غبن کا انکشاف، اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں 3 کروڑ سے زائد بدعنوانی اورغبن ہوئی۔ مواصلات کے محکمے میں 8 کروڑ سے زائد کی غبن اور بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئیں۔