شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ہر سال 8 سے 12 ملین میٹرک ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں داخل ہوتا ہے: شیری رحمٰن

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) وفاقی وزیر ماحوالیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی سمندری حیات اور ماحولیاتی نظام کے لیے شدید خطرہ ہے، ایک اندازے کے مطابق ہر سال 8 سے 12 ملین میٹرک ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں داخل ہوتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دن ہمارے سمندروں میں مچھلی سے زیادہ پلاسٹک پایا جائے گا۔سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں سینیٹر شیر ی رحمان نے کہا کہ سمندروں کا عالمی دن منا نے کا مقصد سمندروں کی اہمیت کے بارے میں عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ اور پائیدار انتظام کو فروغ دینا ہے۔ اس سال ہمیں سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی کے اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے اکٹھے ہونا چاہئے کیوں کہ سمندر زمین کی 50 سے 75 فیصد آکسیجن پیدا کرتے ہیں، اور اس پورے سیارے کی ماحولیات سمندروں پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کا غلط استعمال اور ضرورت سے زیادہ استعمال ہماری سمندری اور ساحلی حیات کو خطرے کا باعث بنتا ہے۔ پلاسٹک کا ملبہ سمندروں میں پھیل چکا ہے، جو مائیکرو پلاسٹک فوڈ چین میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے سمندری حیاتیات اور انسانی صحت دونوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو قدرت نے سمندری ماحولیاتی نظام سے نوازا ہے، ہمارے اپنے سمندر پر پلاسٹک کے فضلے کے مضر اثرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔