شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عون چوہدری کی ’بہترین سیاست‘: وزیراعظم کے مشیر بھی، ترین کے ترجمان بھی

اسلام آباد (پی پی آئی)استحکام پاکستان پارٹی کے وجود میں آنے کے بعد جماعت کے پیٹرن چیف جہانگیر خان ترین نے اپنے دیرینہ معتمد خاص عون چوہدری کو تین عہدے دیے ہیں۔ایک طرف وہ پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل اور ترجمان ہیں ساتھ ہی انھیں جہانگیر ترین کاترجمان بھی مقررکیا گیا ہے علاوہ ازیں وہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے مشیر بھی ہیں اور وفاقی وزیر کا پروٹوکول لے رہے ہیں۔ پی پی آئی کے مطابقعون چوہدری سیاسی افق پر اس وقت نمودار ہوئے جب 2011 میں پاکستان تحریکِ انصاف ایک نئی طاقت بن کر ابھری تو چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے پرسنل سیکریٹری عون چوہدری قرار پائے۔وہ ریحام اور بشریٰ کے ساتھ خان کی شادیوں میں بھی گواہان میں سے ایک بھی تھے۔ تاہم ان کا یہ دوراس وقت اپنے اختتام کو پہنچا جب عمران اور جہانگیر ترین کے درمیان چپقلش کھل کر سامنے آئی توعون چوہدری تحریک انصاف کے منحرف رہنماؤں کے ساتھ ن لیگ کی پہلی نشستوں پر نظر آئے۔ عون چوہدری بنیادی طور پر لاہور کے علاقے جیون ہانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی امین چوہدری نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر 2018 میں لاہور سے ایم پی اے کا الیکشن لڑا اور جیت اپنے نام کی۔سیاسی مبصرین کے مطابق عون چوہدری بنیادی طور پر جہانگیر ترین کے قریبی ساتھی تھے اور اسی وجہ سے وہ عمران خان کے قریب ہوئے۔ جب ترین اور خان کی راہیں جدا ہوئیں تو وہ بھی واپس ہو لیے۔چونکہ موجودہ پی ڈی ایم کی حکومت بننے میں ترین گروپ کا ایک کلیدی کردار ہے ایسے میں عون چوہدری کو وزیر اعظم کا مشیر بنایا جانا دراصل عمران خان کو پیغام دیا گیا تھا کہ جس وزیر اعظم ہاؤس میں عون چوہدری کا داخلہ بند کیا گیا تھا اب وہ وہاں کے مشیر ہیں۔