شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ میں جنوری تا اپریل خواتین، بچوں پر تشدد کے 900 سے زائد مقدمات درج

کراچی (پی پی آئی)سندھ پولیس نے رواں برس کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران خواتین اور بچوں پر تشدد کے 913 مقدمات درج کیے۔ ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی فرم سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 30 اپریل کے درمیان صوبے میں خواتین پر تشدد کے 771 اور بچوں پر تشدد کے 142 کیسز پولیس کو رپورٹ کیے گئے۔پی پی آئی کے مطابق تنظیم کا خیال ہے کہ ان کیسز کی اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ پاکستان میں اس طرح کے کیسز رپورٹ کیے جانے کا رجحان بہت کم ہے۔ ان 4 ماہ کے دوران سندھ میں 529 خواتین اغوا کرلی گئیں، یہ تعداد صوبے میں خواتین کے تحفظ کے بارے میں ایک انتہائی حوصلہ شکن صورتحال کی منظرکشی پیش کرتی ہے۔گھریلو تشدد کے 119 واقعات رپورٹ کیے گئے صوبے میں ریپ کے 56 اور غیرت کے نام پر قتل کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے، ان تمام کیسز میں 3 اضلاع (کراچی وسطی، حیدرآباد اور کیماڑی) خواتین کے خلاف پرتشدد جرائم کا مرکز رہے، کْل 771 کیسز میں سے 63 کراچی وسطی، 58 حیدرآباد اور 54 کیسز کیماڑی سے رپورٹ ہوئے۔ بچوں پرتشددکے واقعات میں زیادہ تعداد جنسی تشدد کی تھی، رپورٹ کے مطابق 4 ماہ کے دوران ان کیسز کی کل تعداد 67 رہی۔ اس مختصر عرصے میں 41 بچوں کو اغوا بھی کیا گیا، کم عمری کی شادی کے 16 اور چائلڈ لیبر کے 14 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔خیال رہے کہ یہ رپورٹ جس ڈیٹا پر مبنی ہے وہ آئین کے آرٹیکل اے-19 کے تحت معلومات کے حق کی درخواست دائر کرکے حاصل کیا گیا۔