بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ میں جنوری تا اپریل خواتین، بچوں پر تشدد کے 900 سے زائد مقدمات درج

کراچی (پی پی آئی)سندھ پولیس نے رواں برس کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران خواتین اور بچوں پر تشدد کے 913 مقدمات درج کیے۔ ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی فرم سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 30 اپریل کے درمیان صوبے میں خواتین پر تشدد کے 771 اور بچوں پر تشدد کے 142 کیسز پولیس کو رپورٹ کیے گئے۔پی پی آئی کے مطابق تنظیم کا خیال ہے کہ ان کیسز کی اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ پاکستان میں اس طرح کے کیسز رپورٹ کیے جانے کا رجحان بہت کم ہے۔ ان 4 ماہ کے دوران سندھ میں 529 خواتین اغوا کرلی گئیں، یہ تعداد صوبے میں خواتین کے تحفظ کے بارے میں ایک انتہائی حوصلہ شکن صورتحال کی منظرکشی پیش کرتی ہے۔گھریلو تشدد کے 119 واقعات رپورٹ کیے گئے صوبے میں ریپ کے 56 اور غیرت کے نام پر قتل کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے، ان تمام کیسز میں 3 اضلاع (کراچی وسطی، حیدرآباد اور کیماڑی) خواتین کے خلاف پرتشدد جرائم کا مرکز رہے، کْل 771 کیسز میں سے 63 کراچی وسطی، 58 حیدرآباد اور 54 کیسز کیماڑی سے رپورٹ ہوئے۔ بچوں پرتشددکے واقعات میں زیادہ تعداد جنسی تشدد کی تھی، رپورٹ کے مطابق 4 ماہ کے دوران ان کیسز کی کل تعداد 67 رہی۔ اس مختصر عرصے میں 41 بچوں کو اغوا بھی کیا گیا، کم عمری کی شادی کے 16 اور چائلڈ لیبر کے 14 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔خیال رہے کہ یہ رپورٹ جس ڈیٹا پر مبنی ہے وہ آئین کے آرٹیکل اے-19 کے تحت معلومات کے حق کی درخواست دائر کرکے حاصل کیا گیا۔