کراچی (پی پی آئی) ای او بی آئی پنشنرز فورم نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے نام کھلے خط میں انھیں آگاہ کیا ہے کہ ایک طرف ان کی پارٹی کی وفاقی وزیر محترمہ شازیہ مری کی وزارت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین میں وظائف تقسیم کررہی ہیں تو دوسری سمت انکی پارٹی کے وفاقی وزیر ساجد طوری اپنی وزارت کے امور سے اتنے لاپروا اور بے خبر ہیں کہ لاکھوں ای او بی آئی پنشنر قبل از عید ضعیف العمری الاؤنس سے محروم رہے ہیں حالانکہ تمام سرکاری ملازمین کوجون کی تنخواہ اور پنشن حکومت کئی روز قبل ادا کر چکی ہے۔ ای او بی آئی پنشنرز کی نمائندہ تنظیم ای او بی آئی پنشنرز فورم نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو آگاہ کیا کہ ای او بی آئی کا محکمہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کیا تھااس لئے اس محکمہ کے لاکھوں پنشنرز کی داد رسی کرکے پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن میں ہمدردیاں سمیٹ سکتی ہے۔ ای او بی آئی پنشنرز فورم نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے اپیل کی کہ ای او بی آئی کے موجودہ بورڈ آف ٹرسٹیز کی تشکیل نو کی جائے کیونکہ اس بورڈ کی مدت کارایک دہائی قبل ختم ہوچکی ہے لیکن نیا بورڈ ہنوز تشکیل نہیں دیا جاسکا ہے حالانکہ اس کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ای او بی آئی کے لاکھوں پنشنرز محسوس کرتے ہیں کہ ان کی حقیقی نمائندگی نہیں ہوپارہی۔پی پی آئی کے مطابق ای او بی آئی پنشنرز فورم نے یاد دلایا کہ وفاقی حکومت میچنگ گرانٹ برسوں سے جمع نہیں کرارہی اس کے حصول کے لئے وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے نیزلاکھوں ادارے ایسے ہیں جو ابھی تک ای او بی آئی سے رجسٹرڈ نہیں حالانکہ وہاں درجنوں ملازم کام کررہے ہیں۔ پیٹرول پمپ، اسکول، چھوٹے اسپتال، کاروباری و تجارتی ادارے اس میں شامل ہیں جن کے ملازموں کی حق تلفی کا سلسلہ جاری ہے۔ ای او بی آئی پنشنرز فورم نے توجہ دلائی کہ بسااوقات ای او بی آئی دفاتر میں عملے کے بعض ارکان پنشنرز کو پریشان کرتے ہیں یا طریق کار سے عدم واقفیت کے باعث پنشنرز کو مشکل پیش آتی ہے اس لئے ہر آفس میں ہیلپ ڈیسک قائم کی جائے اور کم از کم صوبائی سطح پر فوکل پرسن تعینات کرکے اس کا فون نمبر اور آفس ایڈریس مشتہر کیا جائے۔اسی طرح ای او بی آئی پنشنرز فورم کی تجویز ہے کہ بینک الفلاح کی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے کہ مہینہ کے ابتدائی ایام میں خراب اے ٹی ایمز،کیش نہ ہونے اور بایومیٹرک کے ضمن میں مشکلات کے ازالہ کے لئے طریق کار وضع کیا جائے کیونکہ جب ای او بی آئی یکم تاریخ سے قبل فنڈز ٹرانسفر کردیتا ہے تو بینک کی جانب سے اکاؤنٹس میں منتقلی 2 سے 3 تاریخ تک کیوں ہوتی ہے۔خط کی نقول صدر مملکت،وزیر اعظم، چئیر پرسن،ای اوبی آئی،وفاقی وزیر وسیکریٹری وزارت افرادی قوت نیزوفاقی محتسب اور دیگر کو بھی بھیجی گئی ہیں۔
Next Post
شیریں مزاری گرفتاریکیس میں توہین عدالت پرآئی جی اسلام آباد کا ترمیمی جواب جمع
Mon Jun 26 , 2023
اسلام آباد(پی پی آئی) عدالتی حکم کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری پر توہین عدالت کیس میں آئی جی اسلام آباد ناصر اکبر کی جانب سے ترمیمی جواب جمع کرا دیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کی گرفتاری […]
