سات ماہ میں پہلی بار پاکستان کی آسمان کو چھوتی مہنگائی میں کمی واقع آئی

جون میں سات مہینوں کے دوران پہلی بارہوئی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق سال بہ سال مہنگائی گزشتہ ماہ 29.4 فیصد تھی، پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار نے پیر کو ظاہر کیا کہ مئی میں یہ شرح 38 فیصد تھی۔پی پی آئی کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی اب بھی معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔۔ اپریل میں جاری عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح اس سال 37.2 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ روپیہ اس سال ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گیا، جس سے درآمدی اشیا مزید مہنگی ہو گئیں۔معاشی ماہر اشفاق حسن خان، جو وزارت خزانہ کے سابق اسپیشل سیکرٹری ہیں، نے خبردار کیا کہ مہنگائی کی تازہ ترین نرمی ممکنہ طور پر عارضی ہوگی۔ مجھے خدشہ ہے جولائی میں مہنگائی بڑھے گی کیونکہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر اسے 22 فیصد مقرر کیا ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان کسی بھی مفاہمت کے نتیجے میں کرنسی کی قدر میں کمی کی صورت میں افراط زر کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔