شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عمران خان کی مختلف مقدمات میں ضمانت کی 9 درخواستیں مسترد

اسلام آباد(پی پی آئی)اسلام آباد کی مقامی عدالتوں نے پرتشدد مظاہروں پر سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف درج ایف آئی آرز میں ضمانت کی 9 درخواستیں مسترد کر دیں۔پی پی آئی کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے ضمانت کی 3 درخواستیں خارج کر دیں جبکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی ایس جے) محمد سہیل نے عمران خان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی 6 درخواستیں مسترد کر دیں، توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے اور حراست میں لیے جانے کے سبب وہ گزشتہ روز سماعت کے دوران غیر حاضر تھے۔تاہم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی ایس جے) محمد سہیل نے توشہ خانہ تحائف کی جعلی رسید سے متعلق کیس میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 7 ستمبر تک توسیع کردی۔چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے خلاف تھانہ کھنہ اور بارہ کہو تھانے میں درج مقدمات میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سے ضمانت کی درخواست کی گئی تھی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف کراچی کمپنی، رمنا، کوہسار، ترنول اور سیکرٹریٹ تھانوں میں درج ایف آئی آرز میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔استغاثہ نے مو?قف اختیار کیا کہ چونکہ عمران خان جیل میں ہیں اس لیے وہ ضمانت قبل از گرفتاری کے حقدار نہیں ہیں، تفتیشی افسران نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اپنے خلاف درج مقدمات میں شامل تفتیش نہیں ہوئے۔عدالت میں پی ٹی آئی چیئرمین کی نمائندگی بیرسٹر سلمان صفدر نے کی، انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کو ان کے خلاف درج تمام 6 ایف آئی آرز میں ایک جیسے الزامات کا سامنا ہے، پولیس ان معاملات میں عمران خان کی تحقیقات کے لیے اقدامات نہیں کر رہی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی شامل تفتیش نہیں ہوئیں،۔