شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

الیکشن کی تاریخ کا معاملہ، وزارت قانون نے صدر مملکت کی جانب سے مانگی گئی رائے کا جواب دے دیا

ؒؒاسلام آباد(پی پی آئی) وزارتِ قانون نے صدر مملکت کو خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں عام انتخابات کی تاریخ پر صدر مملکت کو رائے دینے کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے،وزارتِ قانون و انصاف نے صدر عارف علوی کو رائے پر مبنی جوابی خط ارسال کر دیا۔ وزارتِ قانون و انصاف نے خط میں رائے دی کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے،الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابات کی تاریخ دینے کی مجاز اتھارٹی الیکشن کمیشن ہی ہے۔یاد رہے کہ ایوان صدر نے الیکشن کمیشن کے خط پر وزارت قانون سے رائے مانگی تھی،ایوانِ صدر کی جانب سے خط وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام لکھا گیا تھا۔ خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔رائے دی جائے کہ کیا صدر کا اس میں کوئی کردار ہے یا نہیں؟۔ جبکہ صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی تھی تاکہ انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کی جا سکے تاہم چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق صدر کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن ایکٹ ترمیم کے بعد کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 ون کے تحت وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے 9 اگست کو تحلیل کی،اب الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں 26 جون کو ترمیم کردی گئی۔ اس ترمیم سے قبل صدر الیکشن کی تاریخ کیلئے کمیشن سے مشاورت کرتا تھا،اب سیکشن 57 میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کو تاریخ یا تاریخیں دینے کا اختیار ہے،آئین کے آرٹیکل 48 فائیوکو آئین کے آرٹیکل 58 ٹوکے ساتھ پڑھا جائے۔