جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

صدرپیوٹن کے دورہ پاکستان پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا: روسی سفیر ڈینیلا گانیچ

اسلام آباد (پی پی آئی)روسی سفیر ڈینیلا گانیچ کاکہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پاکستان کا دورہ کب کرینگے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا۔روسی سفیر ڈینیلا گنیچ نے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ میں پاک روسی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم یوکرین کے ساتھ جنگ جیتنے کی پوزیشن میں ہیں، یوکرین کے ساتھ جنگ ہماری شرائط پر ختم ہوگی، روس، چین، بھارت اور پاکستان کبھی اکٹھے نہیں ہوئے، روس، چین، پاکستان اور ایران ایک کور گروپ ہیں۔طالبان کو تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی ہوگا، چند ممالک نے انکو تسلیم کیا تھا ہم نے نتائج دیکھ لئے، ماننا پڑے گا کہ طالبان نے مغربی حکومت کو اپنے ملک سے باہر پھینک دیا، ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان اس حوالے سے فاتح ہیں۔پاکستان روس کے نارتھ ساؤتھ منصوبے کا اہم حصہ ہے، ہم پاکستان میں روسی زبان کی تعلیم پر کام کر رہے ہیں، ہم پاکستانی حکام کے شکراگزار ہیں کہ انہوں نیاپنی جامعات میں روسی زبان شروع کی، ہم نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں حال ہی میں روسی زبان کا سینٹر کھولا،، روس میں ہم اردو سیکھ رہے اور یہاں روسی زبان سکھا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ روس کے وجود اور سالمیت کو خطرہ ہوا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے، مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے، بھارت کے ساتھ روس کے روابط زیادہ ہیں کیونکہ ہم بڑے پراجیکٹس میں ساتھ ہیں۔روسی سفیر نے پاکستانی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اندرونی سیاست پر تبصرہ نہیں کر سکتا، بھارت اور امریکہ چین کے خلاف الائنس کی صورت میں ہم کیا کرسکتے ہیں، ہم امریکہ کی نسبت بہتر معاونت کر سکتے ہیں، سمجھتا ہوں بھارت کسی کی جیب میں نہیں، وہ اپنے ساتھ مخلص ہے۔ان کاکہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے ہمارا قانون واضح ہے، روس ایٹمی ہتھیاروں تب استعمال کرے گا جب اسکی سالمیت کو خطرہ ہو، وہ خطرہ نظر نہیں آرہا۔روسی سفیر ڈینیلا گانیچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں کریملن کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا کہ صدر پیوٹن کب پاکستان کا دورہ کرینگے تاہم جب میں ریٹائرڈ ہوں گا تو خواہش ہو گی کہ آپ کے آم امپورٹ کروں۔