پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 2040 تک معمول سے زائد درجہ حرارت  کے باعث پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ اموات کا خدشہ

واشنگٹن/کراچی (پی پی آئی) 2030 کے اواخرتک دنیا بھر میں 50کروڑ افراد کو کم ازکم ایک ماہ کیلئے شدید ترین گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس بات کا انکشاف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور کاربن پلان کی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شدید گرمی کا سامنا کرنے والے ان 50کروڑ افراد میں سب زیادہ بھارت کی 27کروڑ کی آبادی متاثر ہوگی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بھی 19کروڑ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ اور کاربن پلان کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے وسیع علاقے شدید گرم اور مرطوب موسم میں ڈوب جائیں گے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2040 تک معمول سے زائد درجہ حرارت پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ اموات کا سبب بن سکتا ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے مختلف خطوں کو اس وقت ہیٹ ویوز کا سامنا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق اس سال کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین ثابت ہوا ہے۔یہ پہلا سائنسی ڈیٹا ہے جس میں اس خیال کی تصدیق کی گئی کہ 2023میں شمالی نصف کرہ میں گرمی کی شدت بہت زیادہ رہی سائنسدانوں کے مطابق 2024 رواں سال سے بھی زیادہ گرم ثابت ہوگا کیونکہ ایل نینو کے اثرات زیادہ واضح ہو جائیں گے۔ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔