آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف 9اضلاع میں شکایتی مراکز قائم

کراچی: ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے صوبائی محتسب کے تحت قائم ادارے “عو ر تو ں کو کا م کر نے کی جگہو ں پر جنسی ہرا سا ں کر نے کے خلا ف تحفظ فرا ہم کر نے کے ادا ر ے” کی اسسٹنٹ رجسٹرار حنا زیب نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی محتسب کے تحت قائم اس ادارے کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہےں ۔صوبے بھر کے9 اضلاع میں اس ادارے کے شکایتی مراکز کھولے جاچکے ہےں جن میں حیدرآباد ‘نوشہروفیروز ‘خیر پور میرس ‘ٹھٹھہ اور عمر کوٹ شامل ہےں جبکہ لاڑکانہ ‘شکار پور ‘سکھر ڈویژن اور سانگھڑ میں شکائتی مراکز کا قیام جلد متوقع ہے، ان مراکز سے شکایات موصول ہونا شروع ہوگئی ہےں اور ایک ماہ کے اندر ان شکایات کا ازالہ بھی کردیا جاتا ہے ۔حنا زیب نے مزید کہا کہ اب تک 30 سے زائد شکایات درج کرائی گئی ہےں جن میں سے25شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ نجی اور سرکاری تمام اداروں پر یہ لازم ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف شکایات کی شنوائی کے لئے اپنے ادارے میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دیں جس میں ایک خاتون ممبر کا ہونالازمی ہے جبکہ ادارے میں ضابطہ اخلاق نمایاں طور پر واضح کیا جائے ۔انھوں نے بتایا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف قانون2010میں ملازمت پیشہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا اسی قانون کے تحت شکایات موصول ہونے پر غیر قانونی اور ناجائز دباﺅ ڈالنے والے افسران اور ساتھی ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،موصول کردہ شکایات کی رازداری کی تحقیقات کے بعد ملزم سے تحریری جواب سات روز کے اندر وصول کیا جاتا ہے ۔انھوں نے تمام اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ پبلک سیکٹر ہو یا پرائیوٹ سیکٹر ہوہر مہینے کمیٹی کے سامنے شکایات درج ہونے کی تعداد بھی معلوم کریں انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ اس ادارے کے قائم ہونے کے بعد تمام اداروں نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی کمیٹیاں تشکیل دی ہےں اور ضابطہ اخلاق بھی آویزاں کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کو پبلک مقامات پر صاف ستھرا ‘پر امن اور عزت وآبرو سے کام کرنے کا معقول اور مناسب انتظام کیا گیا ہے ۔اور ملازمت پیشہ خواتین کو خوشگوار اور سازگار ماحول فراہم کیا گیا ہے ۔