شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پیپلزپارٹی کا ایک بار پھر عام انتخابات کے بروقت انعقاد کا مطالبہ

اسلام آباد)پی پی آ ئی) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر بخاری نے ملک میں عام انتخابات کے بروقت انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری میں انتخابات نہ ہوئے تو پیپلزپارٹی سڑکوں پر نکلے گی اور دھرنا دے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل رہنما نیئر حسین بخاری نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے تحفظات پر کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے سوال ہے کہ ملک کون سنبھالے گا؟ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے پاس ملک کو چلانے کا کون سا فارمولا ہے؟ ہمارے پاس تو آئین کے مطابق الیکشن کا ہی فارمولا ہے، اس لیے الیکشن وقت پر ہونے چاہیں، اگر جنوری میں انتخابات نہ ہوئے تو پیپلزپارٹی سڑکوں پر نکلے گی، دھرنا ڈی چوک پر ہوگا یا کہیں اور اس کا فیصلہ بعد میں پارٹی کرے گی۔اسی طرح سینیٹر رضا ربانی نے بھی انتخابات کی فوری تاریخ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کیا جائے، الیکشن کمیشن پہلے ہی 90 روز میں انتخابات نہ کراکے آئین کی خلاف ورزی کرچکا ہے، اب الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات میں تاخیر کے لیے حلقہ بندیوں کا جواز بھی نہیں رہا، انتخابات میں تاخیر سیاسی اور معاشی غیر یقینی کو بڑھا رہی ہے۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء راجہ ریاض نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات ہورہے ہیں الیکشن جنوری میں نہیں ہوں گے، الیکشن فروری کے درمیان میں ہوں گے، کوئی تاخیر نہیں ہورہی، فروری میں الیکشن کیلئے مولانا فضل الرحمان بھی مان جائیں گے، پیپلزپارٹی سندھ میں نگران حکومت کے مزے لوٹ رہی ہے لیکن اسمارٹ گیم کھیل کر تاثر دے رہی کہ وہ اپوزیشن ہے، پیپلزپارٹی 16ماہ کی حکومت سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کررہی ہے، مردم شماری پر دستخط کا واضح مطلب تھا کہ حلقہ بندیاں ہوں گی، پیپلزپارٹی عوام میں تاثر دے رہی کہ وہ فوری الیکشن چاہتی ہے، پیپلزپارٹی نے بھی مردم شماری پر دستخط کئے الیکشن میں تاخیر تو ہونی تھی، پیپلزپارٹی عوام میں کچھ تاثر دے رہی درپردہ کچھ اور بات ہے۔