روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں نوزائیدہ بچوں میں شرح اموات 46 بچے فی ایک ہزار

کراچی (پی پی آئی)پاکستان کے دیہی اور نیم دیہی علاقوں میں تو صحت عامہ کی سہولیات بہت ہی کم ہیں۔ خاص طور پر  دیہات میں زچگی اور بچوں کی پیدائش کے عمل میں غیر تربیت یافتہ دائیوں کا کردارہوتا ہے۔ اسی لیے زچگی کے دوران خواتین اور بچوں جبکہ پیدائش کے فوری یا کچھ ہی عرصے بعد نومولود  بچوں کی موت کا بہت خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں نوزائیدہ بچوں میں شرح اموات چھیالیس بچے فی ایک ہزار بنتی ہے۔ پی پی آئی کے مطابق 2023میں ملکی آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 1.8 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ نئے پیدا ہونے والے بچوں میں سے صرف 69 فیصد کسی تربیت یافتہ نرس،  مڈوائف یا طبی کارکن کی موجودگی میں جنم لیتے ہیں۔جہاں تک پاکستان میں زچہ و بچہ کی صحت کے لیے دستیاب مالی وسائل کا تعلق ہے، تو عالمی بینک کے مطابق پاکستانی ریاست اپنے ہر شہری کی صحت کے لیے سالانہ صرف 37 امریکی ڈالر کے برابر رقم خرچ کرتی ہے