اسلام آباد(پی پی آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے چیف جسٹس پاکستان سے جعلی مقدمات کی آڑ میں اہلخانہ کو ہراساں کرنے کا فوری نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے خط لکھا ہے۔چیف جسٹس کے نام خط میں مراد سعید نے لکھا کہ اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی خاطر سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال اور صدر مملکت کو بھی متعدد خطوط ارسال کیے جنہیں بدقسمتی سے نظر انداز کر دیا گیا۔خط کے متن کے مطابق مراد سعید نے لکھا کہ وہ ریاستِ پاکستان کا ایک ذمہ داراور قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہونے کے ساتھ سابق وفاقی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں لیکن اپریل 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ان کے خلاف جعلی اور بے بنیاد ایف آئی آرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہے، جن میں دہشت گردی اور غداری جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔خط میں پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی لکھا کہ پولیس کی جانب سے میرے اہلخانہ کو تضحیک اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا اور گھر کا فرنیچر اور دیگر قیمتی اشیا توڑ دی گئیں، میری اہلیہ اور رشتہ داروں کو بغیر کسی مقدمے کے بلاجواز انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے چیف جسٹس کو لکھا کہ 9 مئی کے بعد سے پارٹی کے دیگر قائدین کی طرح ان پر بھی بغیر کسی ثبوت کے انتشار اور جلاو گھیراومیں ملوث ہونے کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ وہ عدالت عظمیٰ کے روبرو جان کو لاحق خطرات اور قتل کے منصوبے کے خدشات کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔
Next Post
پی پی والے کہتے تھے کہ میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے، اب ڈیل کا الزام لگارہے ہیں: امیر مقام
Fri Oct 20 , 2023
اسلام آباد (پی پی آئی)مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر امیر مقام نے کہا ہے کہ ’جنوری میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ پہاڑی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے انتخابی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ مارچ کے فورا بعد انتخابات […]
