خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ڈاﺅ یونیورسٹی میں عالمی یوم صحت کے حوالے سے آگاہی سیمینا رکا انعقاد

کراچی: دنیا بھر کا تقریباً پچاس فیصد حصہ مچھروںکی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہے۔ ڈاﺅ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز کے عالمی یوم صحت کے حوالے سے آگاہی کے سیمینار سے اظہار خیال کر تے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ دنیا بھرکا تقریباً 50فیصدحصہ مچھروں کی وجہ سے ہونے والی بیماریوںکے خطرے سے دوچار ہے،ا یسی بیماریوں سے سالانہ ایک ملین سے زائد افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں، تقریباً 100 ممالک میں 2.5 ارب افراد صرف ڈینگی کے خطرے سے دوچار ہیں،2010 سے پاکستان میں مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں کی شدد میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ملک کو تکنیکی مدد اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ موثر طریقکار کی اشد ضرورت ہے، اس سال عالمی یوم صحت کے دن کا موضوع مچھروںکی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کرنا ہے۔ ڈاﺅ یونیورسٹی کا اس آگاہی سیمینار کے انعقاد کا مقصد عوام کی صحت کے مسائل کو اجاگر کرنااور معاشرے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بیداری پیداکرنا ہے تاکہ کمیونٹی میں بیماریوں سے بچاﺅ کے احتیاطی پیغام پھیلائیں۔ ماہرین میں ڈاﺅ میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر الہی بخش سومرو، ڈاﺅ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر عمر فاروق، اسکول کو پبلک ہیلتھ کے وائس ڈین ڈاکٹر کاشف شفیق،پروفیسر شاہین شرافت، پروفیسر رفیق خنانی اور ڈاکٹر اختر علی بلوچ شامل تھے۔اس موقع پر ماہرین نے کہاگذشتہ چند سالوں کے دوران دنیا کے کئی ممالک میں مچھروںکے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں دوبار نمودار ہوئی ہیں اور کئی ممالک میں نئی رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان بیماریوں سے بچاﺅ اور ان کے تدارک کیلئے حکومت، ڈاکٹرز،میڈیا،کمیونٹی اور معاشرے کے عام افراد اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور لوگوں کو اس بیماریوں سے بچاﺅ اور روک تھام کیلئے احتیاتی تدابیر سے آگاہ کریں۔