شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وسط اکتوبر میں کم ترین سطح کو چھونے کے بعد ڈالر نے پھر اڑان بھرنا شروع کردی 

کراچی (پی پی آئی)وسط اکتوبرمیں کم ترین سطح کو چھونے کے بعد ڈالر نے دوبارہ اڑان بھرنا شروع کردی ہے۔ جس کا سبب درآمد کنندگان کی جانب سے بھاری طلب کے ساتھ ساتھ ملک میں ڈالر کی آمد میں کمی بھی ہے۔کرنسی لین دین  کے ماہرین نے کئی وجوہات کی نشاندہی کی ہے جو روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم جانے کا سبب بنی ہیں، پی پی آئی کے مطابق  انٹربینک مارکیٹ سے وابستہ بینکرز کے مطابق ڈالر کی آمد میں کمی اس رجحان میں تبدیلی کی بڑی وجہ بنی۔مارکیٹ میں بہت سے لوگوں کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے بیرونی سرمایہ کاری آنے کی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔ایک سینیئر بینکر نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی جانب سے تازہ ترین حملے سیاسی اور اقتصادی ماحول کو مزید غیرمستحکم کر سکتے ہیں، اقتصادی رجحانات کے مستقبل پر ایک قسم کی بے یقینی چھا گئی ہے، حکومت کو معاشی استحکام کا یقین ہے لیکن معیشت کی ترقی تاحال پیچیدہ مراحل پر ہے۔ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمد کنندہ عامر عزیز نے کہا کہ حالات معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار نہیں ہیں، ٹیکسٹائل کا شعبہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ کاروبار کرنے کی لاگت خطے میں سب سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال، بالخصوص درآمدی پابندیوں اور پیداواری لاگت کے سبب معاشی چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔برآمد کنندگان ڈالر کی قدر میں اضافے کو اپنے منافع کے لیے حوصلہ افزا علامت سمجھتے ہیں لیکن ڈالر مہنگا ہونے کے سبب مہنگائی خاص طور پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔مارکیٹ پْرامید ہے کہ ایک بار جب آئی ایم ایف پاکستان کو کلین چٹ دے دے گا تو روپے کی قدر بحال ہوجائے گی۔