نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خراب کریڈٹ ریٹنگ کے سبب غیر ملکی فنانسنگ میں کمی

کراچی (پی پی آئی)مالی سال 2024 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران صرف 3 ارب 84 کروڑ 70 لاکھ ڈالر موصول ہوئے عالمی مالیاتی مارکیٹوں کی صورتحال اور خراب کریڈٹ ریٹنگ کی وجہ سے قرض کے حصول کے محدود مواقعوں کے سبب پاکستان کو 3 ارب 85 کروڑ ڈالر سے بھی کم بیرونی قرضے ملے، جو سالانہ ہدف کا تقریبا پانچواں حصہ ہے۔پی پی آئی کے مطابق اقتصادی امور ڈویژن نے اپنی ماہانہ فارن اکنامک اسسٹنس (ایف ای اے) کی رپورٹ میں بتایا کہ ملک کو 17.6 ارب ڈالر کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں مالی سال 2024 کے ابتدائی چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران صرف 3 ارب 84 کروڑ 70 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں بیرونی ممالک سے ملنے والے 4.26 ارب ڈالر کے مقابلے میں اس سال تقریباً 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 17.62 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد کا تخمینہ لگایا ہے، جس میں 17.385 ارب ڈالر قرضے اور باقی 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد شامل ہیں، پہلے چار مہینوں میں قرضوں کی مد میں کل 3.8 ارب ڈالر اور 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امداد ملی۔ پی پی آئی کے مطابق کثیرالجہتی اداروں میں ورلڈ بینک سے جولائی تا اکتوبر کے دوران سب سے زیادہ 37 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ملے، اس کے بعد اسلامی ترقیاتی بینک سے 10 کروڑ ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 8 کروڑ 80 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے 2 کروڑ 8 لاکھ ڈالر اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی کے ذریعے ایک کروڑ 14 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔