متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 فضائی آلودگی پاکستان میں صحت کیلئے دوسرا سب سے اہم خطرہ ،اوسط عمر میں 4 سال کی کمی

کراچی (پی پی آئی)ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی میں اضافے سے شہریوں کی اوسط عمر 4 سال کم ہورہی ہے۔پی پی آئی کے مطابق یونیورسٹی آف شکاگو کے انرجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ  نے بتایا  ہے کہ لاہور، شیخوپورہ، قصور اور پشاور جیسے شہروں میں رہنے والے لوگوں کی عمر 4 سال کم ہوسکتی ہے۔انڈیکس کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان میں صحت کے لیے دوسرا سب سے اہم خطرہ ہے، تاہم بنیادی طور پر دل کی بیماریاں سب سے زیادہ خطرے کی علامت ہیں۔رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آلودگی میں اضافے سے دماغی صحت کے کئی امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں جن میں انزائٹی اور ڈپریشن شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پوری 22 کروڑ آبادی ان خطوں میں مقیم ہے جہاں فضائی آلودگی کی سالانہ اوسط عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے۔۔ملک کی تقریباً 98.3 فیصد آبادی ان علاقوں میں مقیم ہے جہاں سالانہ اوسطاً فضائی آلودگی طے کردہ فضائی آلودگی کی گائیڈلائنز سے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر آلودگی کی موجودہ سطح برقرار رہی تو پنجاب، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں رہنے والے افراد کی اوسط عمر میں تقریباً 3.7 سے 4.6 سال کی کمی کا خدشہہے۔اس کے علاوہ 1998 سے 2021 تک پاکستان میں سالانہ اوسط ذرات کی آلودگی میں 49.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس اضافے کے نتیجے میں شہریوں کی اوسط عمر میں 1.5 سال کی کمی واقع ہوئی ہے۔رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر پاکستان نے ڈبلیو ایچ او سفارشات پر عمل کیا تو ممکنہ طور پرکراچی کے شہریوں کی متوقع عمر میں 3 سال کالاہور کے رہائشی افراد کی عمر میں 8 سال کا، اور اسلام آباد میں رہنے والے افراد کی متوقع عمر میں تقریباً 5 سال تک کا اضافہ ممکن ہے۔