شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بھارتی استبداد کیخلاف کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد (پی پی آئی)نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے پاکستان کے اس غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بھارتی استبدادکے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد میں ان کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔آج(جمعرات) کی شام مظفرآباد میں آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بڑے پیمانے پربے انصافی پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے بادی النظر میں سیاسی فیصلہ دیتے ہوئے پانچ اگست 2019 کے بھارتی حکومت کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کی توثیق کی۔انہوں نے کہاکہ دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت کی عدالت عظمی کی جانب سے غیرمنصفانہ فیصلہ دیاگیا، انہوں نے کہاکہ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی منافق ریاست قراردیاجاناچاہیے۔وزیراعظم نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنا قبضہ ختم کرے اور پانچ اگست دوہزار انیس کے غیرقانونی یکطرفہ اقدامات منسوخ کرے۔انہوں نے بھارت پر یہ زور بھی دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور اقوام متحدہ کے اداروں اور عالمی ذرائع ابلاغ کی بلارکاوٹ رسائی فراہم کرے۔وزیراعظم نے تحریک آزادی کشمیر کے شہداء اور جنگ بندی کی بھارتی خلاف ورزیوں کے باعث کنٹرول لائن کے ساتھ مقیم شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات پر انہیں خراج تحسین پیشک یا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے اور بھارتی حکومت قانونی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے متنازعہ علاقے میں اپنا قبضہ جما رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ان اقدامات کا بڑا مقصد کشمیریوں کو اپنی ہی زمین پر بے اختیار بنانا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ملکی قانون سازی اور عدالتی فیصلوں سے بھارت ذمہ داریوں سے جان نہیں چھڑا سکتا۔