شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 پی پی پی پالیسی بورڈ کا اجلاس: تفریحی مقامات کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری

کراچی (پی پی آئی)   نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے 42ویں پی پی پی پالیسی بورڈ کے اجلاس کی  صدارت کرتے ہوئے چار  تفریحی مقامات کینجھر جھیل  ریزورٹ، ہالیجی جھیل  ریزورٹ، ہاکس بے ریزورٹ اور رنی کوٹ گیسٹ ہاؤس کو آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی۔ نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی پی یونٹ کو ہدایت کی کہ وہ ان  تفریحی مقامات کی بحالی  اور بہتر سہولیات  کی فراہمی کے لیے  تمام  تر ضروری اقدامات کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کریں۔ اجلاس میں صوبائی نگراں وزراء مبین جمانی، ایشور لعل، ارشد ولی محمد، چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم، چیئرمین پی اینڈ ڈی شکیل منگنیجو، ایس ایم بی آر زاہد عباسی، وی سی این ای ڈی ڈاکٹر سروش لودھی، آصف بروہی، سی ای او سندھ اکنامک زون عظیم عقیلی اور دیگر نے شرکت کی۔ ڈی جی پی پی پی یونٹ اسد ضامن نے وزیراعلیٰ  سندھ کو پی پی پی فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ  دیتے ہوئے  قانونی، ادارہ جاتی اور ریگولیٹری سیٹ اپ کے حوالے سے   اپنی تجاویز پیش کیں۔  بورڈ نے پی پی پی کے منصوبوں کی کامیابیوں اور ایوارڈز کو سراہا۔ کچھ بڑے منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جن میں  گھوٹکی کندھ کوٹ پل پراجیکٹ اور روڈ پروجیکٹ، ملیر ایکسپریس وے پروجیکٹ، M9-N5 لنک روڈ پروجیکٹ، واٹر کراچی ری سائیکلنگ واٹر پروجیکٹ، 5ایم جی ڈی  ڈی سیلینیشن پروجیکٹ اور NED ٹیکنالوجی پارک پروجیکٹ شامل تھے۔ بورڈ نے مختلف منصوبوں کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا اور درج ذیل فیصلے کیے: نبیسر تا وجیہار واٹر سپلائی پراجیکٹ: اس منصوبے کا مقصد تھر بلاک II کے آئی پی پیز کو 65 کلومیٹر طویل پائپ لائن اور 45 دنوں کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے  ساتھ  45 کیوسک ٹریٹڈ پانی فراہم کرنا ہے۔ پانی کی ترسیل کے طریقہ کار کے  حوالے سے پی پی پی موڈ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔بورڈ کو صوبائی کابینہ کی جانب سے منصوبے میں 4.6 بلین روپے ایکویٹی/ سب ڈیٹ کے ذریعے لگانے کی منظوری سے آگاہ کیا گیا تاکہ منصوبے کی مالیاتی تکمیل میں مدد مل سکے۔ بورڈ نے کابینہ کے فیصلے کو تسلیم کیا اور اس منصوبے کے مالیاتی کلوز کی کامیابی کو سراہا۔موٹر وہیکل انسپیکشن پروجیکٹ کی فزیبلٹی: یہ پروجیکٹ کراچی میں گاڑیوں کی  انسپکشن  میں تاخیر کے مسئلے کو کرے  گا۔ پرائیویٹ پارٹی 32 جدید ترین گاڑیوں کی  انسپکشن کے مراکز قائم کرے گی جو کہ لائٹ  اور ہیوی گاڑیوں کی جدید طرز پر انسپکشن کرے گا۔ یہ منصوبہ مالی طور پر خود کفیل ہوگا  اور حکومت اس منصوبے کو کوئی مالی تعاون فراہم نہیں کرے گی۔بورڈ کو مجوزہ منصوبے کی نمایاں خصوصیات کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ  اس قسم کے منصوبوں کی صوبے میں بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس سے نہ صرف گاڑیوں کی حالت بلکہ صوبے میں ماحولیات سے متعلق مسائل بھی حل ہوں گے۔اس  پر بورڈ نے لین دین کے حوالے سے  ایڈوائزر  کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی تاکہ بڈ/بولی لگانے کے لیے پروجیکٹ کو تیار کرنے کے لیے ایک تفصیلی فزیبلٹی اسٹڈی  کی جائے۔ ماربل سٹی پراجیکٹ: اس منصوبے میں ماربل اور اس سے منسلک صنعتوں کے قیام کے لیے ایک جدید ترین سہولت  فراہم کرنے کے حوالے سے اقدامات  شامل تھے  جس سے نہ صرف زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرکے ملک کی مجموعی معیشت میں بھی مدد ملے گی۔ بورڈ کو اس منصوبے کے پس منظر  اوربڈ/بولی لگانے اور اس کے نتائج سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے  بورڈ نے گذشتہ  2 دو نظرثانی شدہ پروجیکٹ  اسٹرکچر پیش کیے۔پہلا ڈھانچہ صوبائی حکومت کے ساتھ ریونیو شیئرنگ کی بنیاد پر بولی /بڈلگانے کے عمل پر مبنی تھا جس میں پرائیویٹ پارٹیوں کو پارکنگ ایشو کے ساتھ  پلاٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا بھی خطرہ تھا۔ دوسرا آپشن اس منصوبے کی ترقیاتی لاگت کی بنیاد پر بولی لگانے پر مبنی تھا۔اس بات پر غورکیاگیا کہ حکومت کا مقصد صنعت کاروں کو ماربل کی صنعت کے قیام کی طرف راغب کرنا ہے۔بورڈ نے دوسرے ڈھانچے کی منظوری دی اور اس بات پر زور دیا کہ وسیع مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر بھی مسابقتی بولی لگائی جا سکتی ہے۔