شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ہانگ کانگ کنونشن کا شپ بریکنگ سیکٹر اور ورکرز پر اثرات کے حوالے سیسیمینار

کراچی (پی پی آئی)  کراچی میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جانب سے ہانگ کانگ کنونشن کا شپ بریکنگ سیکٹر اور ورکرز پر اثرات کے حوالے سیسیمینار منعقد کیا گیا. سیمینار میں سارا خان نے ہانگ کانگ کنونیشن پر پریزینٹیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ شپ بریکنگ ایشیا کے تقریباً ممالک جیسے کہ انڈیا، پاکستان، بنگلادیش اور دیگر ممالک میں ہوتی ہے، شپ بریکنگ کی وجہ سے روزانہ بنیاد پر ایک جان جاتی ہے، جس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ بہت سے قوانین ہانگ کانگ کنونشن میں موجود ہیں اور پاکستان بھی اس کا حصہ ہوا ہے.نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کے پہلے تو کم پارٹیوں نے منشور بتایا ہے باقی جماعتوں نے نہ تو منشور پیش کیا ہے نہ ہی مزدوروں کے حوالے سے کوئی بات کی ہے. ہانگ کانگ کنونشن میں پاکستان نے دستخط کی ہے، پاکستان کے لیے لازمی ہے کہ بہری کشتیوں کی کٹائی میں روک تھام کرے، اسٹیل مل، ریلوے اور دوسرے اداروں نے سندھ کی زمینیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں، امپورٹ لابی بہت سرگرم ہے، شپ بریکنگ کے لیے ایران سے لوہا اسمگلنگ ہوکر پاکستان آتا ہے اور یہاں اسٹیل مل بند کردی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش میں دنیا کی اکہتر فیصد بہری جہاز کاٹے جاتے ہیں. ہانگ کانگ کنونشن پاکستان کی اکانومی کو بہتر کریگا، پاکستان چار قدیم ترین ممالک میں شپ بریکنگ کے حوالے سے آتا ہے، اس لیے پاکستان میں شپ بریکنگ کے لیے اقدامات لینے کے لیے ہانگ کانگ کنونشن کے قوانین پر عملدرآمد کروانا پڑیگا، ویلڈر کو تین قسم کی ویلڈنگ آنی چاہیے، تاکہ وہ سمجھ سکے کہ پانی کے اندر ویلڈنگ کیسے ہوگی، گیس ویلڈنگ کیسے ہوگی اور نارمل ویلڈنگ کیسے ہوگی، پاکستان میں عام طور پر شپ کٹنگ کا کوئی قانون فالو نہیں کیا جاتا اس لیے پاکستان اس پر عمل کرے گا تو ہی ماحول بہتر ہوگا. انہوں نے کہا کے???? میں شپ کٹنگ کے دوران 28 مزدور فوت ہوگئے لیکن بدقسمتی یہ کے اس وقت سے آج تک شپ مزدوروں کو ای او بی آئے اور سوشل سکیورٹی نہیں دی جاتی اور کہا جاتا ہے ان مزدوروں کی کم سے کم اجرت والے قانون سے زیادہ تنخواہیں ہیں، جب ہم مزدوروں کو حق دلوانے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ایجنسیوں سے دھمکایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ ملک دشمن ہیں، مزدوروں کی بات کرنا کہاں سے ملک دشمنی ہے؟ ناصر منصور نے کہا کے شپ بریکنگ کی وجہ سے سندھ کے کوسٹل بیلٹس خراب ہونگے، ان سب کا ذمہ دار شپ مالکان اور آئل فیکٹریاں ہونگی، اگر جہاز بنتا ہے تو اس کا ٹوٹنا بھی لازم ہے اور اس مرتے ہوئے جہاز کا ٹھیکہ سمندر کو نہیں ہے اس لیے مرتے ہوئے جہازوں کے لیے قبرستان بنایا جائے ایسا قانون بھی اس کنونشن میں موجود ہے، جس پر پاکستان نے بھی دستخط کیے ہیں. ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی مرکزی جنرل سیکرٹری زہرا خان نے کہا کے کنویشن میں صحت کے حوالے سے بہترین قانون ہے جس پر عمل کرنا لازم ہے اور مالکان مزدوروں کی صحت کا معاملہ خود پر بوجھ سمجھتا ہے لیکن اس کنویشن میں لاگو کردا قانون مزدور کے حق میں ہے اس پر حکومت عمل کرے تو مزدوروں کی تکلیف دور ہو جائے گی. انہوں نے کہا کہ 1250 ایسے سمندری کنارے ہیں جہاں پر شپ بریکنگ ہوتی ہے اور شپ بریکنگ کے دوران خام تیل یا جو فضلہ ہوتا ہے وہ سمندر کے پانی میں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے سمندری حیات اور ماحول خراب ہوتا ہے، اس پر بھی کنویشن میں قوانین موجود ہیں اس پر عمل کرنا لازم ہے، اگر قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو مزدور یونینز ہی واحد حل ہیں.پاکستان فشر فولک فورم رہنما فاطمہ مجید نے کہا کہ سمندر ہماری روزی ہے، شپ بریکنگ کا گندا سامان سمندر میں ہی جاتا ہے جس سے جھینگا اور دوسری مچھلیاں متاثر ہوتی ہیں جس سے ہماری روزی متاثر ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے کوسٹل بیلٹس میں بڑا فرق ہے کیونکہ سندھ میں مینگروز ہیں تو سمندر کی لہریں کم ہیں اور بلوچستان میں مینگروز کم ہیں تو وہاں لہریں زیادہ ہیں.لیبر ویلفیئر ڈپارٹمنٹ بلوچستان کے ایڈمن آفیسر وشدل خان نے کہا کہ بلوچستان میں لیبر ڈپارٹمنٹ نے سختی سے کہا ہے کے 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کی کم سے کم تنخواہ 32 ھزار دی جائے، وقتاً بوقت لیبر ڈپارٹمنٹ ٹریڈ یونینس سے ملتے رہتے ہیں تاکہ مزدوروں کے مسائل حل ہو سکیں.وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر اصغر دشتی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کا 23 واں ملک ہے جس نے ہانگ کانگ کنونشن میں حصہ لیا ہے، بظاہر تو یہ ایک واقعہ ہے کہ لیکن عام طور اس بات پر دھیان نہیں دیا جاتا کے یہ کنویشن کیسے ہوا، دراصل اس کنونشن کو کروانے کے لیے پیچھے سے بہت سیاسی و سماجی جدوجہد شامل ہوتی ہے، اگر پاکستان کا اس کنونشن میں حصہ لینا کا کریڈٹ اگر میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کو دوں تو غلط نہیں ہوگا. انہوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ کنونشن کے بعد پاکستان اب لیگل قوانین کا پابند ہے، اس کنونشن کے بعد بھی مکمل دباؤ رکھنا لازم ہے کیونکہ پاکستان میری ٹائم، پاکستان کوسٹ گاڑڈ، پاکستان نیوی، فشریز ڈپارٹمنٹ آپس میں  کوآرڈینیشن نہیں کرتے.شپ بریکنگ ورکر یونین کے رہنما بشیر محمودانی نے تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شپ بریکنگ کے مزدوروں کے حقوق مانگنے پر ٹارچر سہنے پڑے، ہمارے لیبر کو موسمیاتی کاروبار کہہ کر لیبر ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ نہیں کیا جاتا تھا، میرے ساتھ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور دیکر تنظیموں کے دوستوں کی جدوجہد سے ہانگ کانگ کنونشن میں بات گئی.پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناصر منصور، سعید بلوچ اور دیگر دوستوں کے پرامن احتجاج پر کیس داخل ہونے کی مذمت کرتا ہوں، ہم جب بھی مظلوموں کی آواز بننے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی بڑی طاقت ہمیں دیکھ رہی ہوتی ہے اور رکاوٹ ڈالتی ہے. انہوں نے ہانگ کانگ کنونشن کے حوالے سے کہا کہ شپنگ مزدوروں کے حوالے سے قانونسازی پیپلز لیبر بیورو آپ کے ساتھ ہے، اگلی حکومت آنے سے پیپلز لیبر بیورو کے ایجنڈے میں سر فہرست لیبر قوانین ہونگے اور مزدوروں کی کم سے کم اجرت کا عمل درآمد ہوگا.نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی صدر رفیق بلوچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شپ بریکنگ میں مزدور یونین بنانا میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہوا جس میں سردار اختر مینگل اور دیگر سیاسی لوگوں نے ساتھ دیا، بہت بار ہماری شپ لیبر یونین کو مسترد کر دیا گیا، پھر بڑی جدوجہد کے بعد شپ لیبر یونین بلوچستان میں پاس ہوئی. انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل لیبر یونین کے پاس پاکستان سے صرف ایک یونین رجسٹرڈ ہے جب کے دیگر مزدور تنظیمیں انہیں نظر نہیں آتی. انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صنعتکار لوگوں کا رویہ مزدور کے ساتھ صحیح نہیں ہے، پاکستان کے صنعتکار دنیا بھر میں چور کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں کیونکہ یہ مزدوروں کی چھٹیاں، سالانہ بونس، کم سے کم اجرت، صحت اور دیگر حق چوری کرتے ہیں لیکن مزدور پھر بھی شپ مالکان اور صنعتکاروں کے حق میں ہوتا ہے کہ وہ زیادہ ترقی کریں.