شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران  پاکستان کے خوردہ شعبے میں ڈجیٹل ادائیگی کا بڑھتا ہوا رجحان

کراچی (پی پی آئی) بینک دولت پاکستان نے مالی سال 2023-24ء کی پہلی سہ ماہی کی پیمنٹ سسٹمز کی سہ ماہی رپورٹ  جاری کردی  جس میں ملک کے ادائیگی کے ایکو سسٹم میں اہم پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈجیٹل لین دین کی سرگرمیوں کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔سہ ماہی کے اختتام تک ملک بھر میں 33 بینک، 11 مائکرو فنانس بینک، 4 الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئی) اور 5 پیمنٹ سروس پرووائیڈرز/ سسٹم آپریٹرز (پی ایس او/ پی ایس پی) ادائیگی کی خدمات فراہم کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے زیر انتظام دونوں طریقوں یعنی بروقت ادائیگی کے مجموعی تصفیہ جاتی نظام یا ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم (آر ٹی جی ایس) اور  فوری ادائیگی کینظام راست سے ملک میں ادائیگیوں کا بنیادی ڈھانچہ  مزید بہتر ہوا۔ مزید برآں، 16 بینکوں اور مائکرو فنانس بینکوں نے برانچ لیس بینکنگ  خدمات کے لیے اپنی پیش کش میں اضافہ کیا،  جس سے مالی خدمات تک رسائی بڑھ گئی۔ ڈجیٹل پلیٹ فارم صارفین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ  پہلی سہ ماہی کے اختتام تک موبائل بینکار ی کے  17.0 ملین صارفین ہیں، انٹرنیٹ بینکاری کے 10.3 ملین صارفین،ای-ویلٹ کے  2.4 ملین صارفین (ای ایم آ ئی سے جاری کردہ) اور ایم-ویلٹ کے  61.3  ملین صارفین (برانچ لیس بینکاری سہولت دینے والے اداروں سے جاری کردہ)ہیں۔اس کے علاوہ صارفین کو 54.3 ملین پے منٹ کارڈز جاری کیے گئے جن میں سے 79 فیصد ڈیبٹ کارڈ، 17 فیصد سوشل ویلفیئر کارڈ اور 4 فیصد کریڈٹ کارڈ تھے۔

بینکوں کے خوردہ لین دین میں ڈجیٹل ادائیگیوں کا حصہ زیر جا ئزہ سہ ماہی کے دوران بڑھ کر 80 فیصد ہو گیا جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ 74 فیصد تھا۔ اگرچہ حالیہ سہ ماہی میں خوردہ لین دین میں اوور دی کاؤنٹرسودوں  کا حصہ 20 فیصد تھا، تاہم مالیت کے لحاظ سے یہ حصہ 87 فیصد تھا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیادہ مالیت کے لین دین کے لیے صارفین او ٹی سی چینل کو ترجیح دیتے ہیں۔ حجم کے لحاظ سے آر ٹی جی ایس کی جانب سے تصفیہ شدہ بڑی مالیت کی ادائیگیوں کی تعداد   1.4 ملین تھی جن کی مجموعی مالیت 199 ٹریلین روپے تھی، جبکہ سہ ماہی کے دوران بینکوں، مائکرو فنانس بینکوں اور ای ایم آئیز نے  702 ملین کی تعداد میں سودوں کو پراسیس کیا جن کی مجموعی مالیت تقریباً 134 ٹریلین روپے رہی۔ خوردہ لین دین میں بنیادی طور پر فنڈز کی منتقلی (37 فیصد)، نقد رقم نکالنا (36 فیصد)، پی او ایس اور ای- کامرس پلیٹ فارم پر خریداری (10 فیصد)، بل ادائیگی اور موبائل ٹاپ اپ (7 فیصد)، نقد / چیک ڈپازٹ (7 فیصد) اور3 فیصد   بقیہ ادائیگی شامل ہیں۔ڈجیٹل طریقوں میں، رقوم کی منتقلی حجم کے لحاظ سے سب سے زیادہ مقبول طریقہ ہے جبکہ او ٹی سی پر کیش/ چیک ڈپازٹ سب سے نمایاں طریقہ ہے۔ ان تمام خوردہ لین دین کے لیے بینکوں، مائکرو فنانس بینکوں اور ای ایم آئیز کی طرف سے فراہم کردہ پے منٹ نیٹ ورک کے ذریعے سہولت ملی۔ اس میں 17,768 بینک برانچوں، 18,117 اے ٹی ایم، 118,444 پی او ایس ٹرمینلز اور  (بینکوں / مائکرو فنانس بینکوں کے ساتھ) رجسٹرڈ 7،310ای -کامرس مرچنٹس کا نیٹ ورک شامل تھا۔