پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سابق اسپیکرقومی اسمبلی الہٰی بخش سومرو انتقال کرگئے

کراچی(پی پی آئی)سینئر سیاست دانسابق اسپیکرقومی اسمبلی الہٰی بخش سومرو انتقال کرگئے،ان کی عمر97برس تھی۔ فیملی ذرائع نے  تصدیق کی کہ  الہٰی بخش سومرو انتقال کر گئے ہیں،  پی پی آئی کے مطابق وہ کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔مرحوم الہٰی بخش سومرو اسپیکر قومی اسمبلی اورمتعدد بار وفاقی وزیربھی رہ چکے ہیں،وہ سینیٹ کے بھی رکن رہے،وہ حرکت قلب بند ہونے کے باعث کراچی میں انتقال کر گئے۔الہٰی بخش سومرو کا جسد خاکی جیکب آباد روانہ کر دیا گیا ہے جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور وہیں پر ان کی تدفین ہو گی۔الہٰی بخش سومرو 1926 میں ضلع جیکب آباد میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق شکار پور میں آباد سومرو خاندان سے ہے جس نے سندھ میں سالہا سال حکومت کی، وہ مولا بخش سومرو کے فرزند اور احمد میاں سومرو کے بھائی تھے اور پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے۔مرحوم الہٰی بخش سومرو جنرل ضیا الحق کے دور میں حکومت میں پہلی مرتبہ وفاقی وزیر بنیاور 1985ء  میں بلا مقابلہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 29 مئی 1988ء کو جنرل ضیا الحق نے جب محمد خان جونیجو کی وزارت کو برطرف کیا اور نگران کابینہ تشکیل دی تو اس میں  وزیراطلاعات و نشریات مقرر ہوئے۔1990   اور پھر 1997  کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے اور قومی اسمبلی کے سولہویں سپیکر بنے  تاہم 2007  میں ہونے والے الیکشن میں اپنی نشست پر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ سابق سپیکر مختلف ادوار میں متعدد بار رکن قومی اسمبلی، وفاقی وزیر اور سینیٹ کا حصہ بنے۔الہٰی بخش سومرو ان چند سیاستدانوں میں سے ایک تھے جو پاکستان کے کئی صدور اور وزرائے اعظم کے بہت قریب رہے، ان کا شمار ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی اور بچپن کے ساتھیوں میں ہوتا تھا اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو انہیں“انکل“ کہا کرتی تھیں ، وہ  قائد مسلم لیگ ن  نواز شریف اور غلام اسحاق خان کے بھی انتہائی قریبی ساتھی رہے۔وہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، S.I.T.E کے مینجنگ ڈائریکٹر، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے ریکٹر رہے۔وہ ریکارڈ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے تین سالہ مدت کیلئے چار بار چیئرمین منتخب ہوئے جبکہ قبل ازوفات وہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کراچی کے چانسلر تھے۔یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی ان کی اہلیہ پروین الہٰی بخش دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں تھیں۔