پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 بلوچستان میں امیدواروں کوانتخابی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت

کوئٹہ(پی پی آئی)بلوچستان کی نگران حکومت نے یکم فروری کو ایک ہی دن میں 15 دھماکوں اور امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے امیدواروں کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتخابی مہم اور اجتماعات محدود کرنے اور جلسے جلوسوں کے بجائے کارنر میٹنگز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر وفاقی وزیر داخلہ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے بھی  کوئٹہ کا دورہ کیاہے۔ دورے کے دوران نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز کو امن و امان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔جس کے بعد وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ’عام انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے اور عام انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔‘یکم فروری کوصوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں 15 حملے ہوئے۔ان حملوں میں انتخابی امیدواروں کے علاوہ قائم کیے جانے والے پولنگ ا سٹیشنوں، ڈی سی آفس، پولیس سٹیشن، جیل، نادرا آفس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔جبکہ گذشتہ ماہ جنوری میں بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکے اور فائرنگ کے واقعات میں انتخابی امیدواروں اور دفاتر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پی پی آئی کے مطابق جنوری میں کوئٹہ، خضدار، خاران، قلات، سبی، ڈیرہ مراد جمالی میں مختلف دھماکوں میں چار افراد جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کے ہدف مختلف سیاسی جماعتوں کی ریلیاں اور دفاتر تھے