شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 کمشنر راولپنڈی کے الزامات سے متعلق اصل حقائق کو سامنے لایا جائے گا

 اسلام آباد(پی پی آئی) گران وزیراعلی نے بھی کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔نگران وزیر اعلی محسن نقوی کا کہنا ہے کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔کمشنر راولپنڈی کے الزامات سے متعلق اصل حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔نگران وزیر اعلی نے الزامات کی انکوائری کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔اب سے کچھ دیر قبل کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ نے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ کمشنر راولپنڈی نے عام انتخابات کے ہونے والی دھاندلی کو بے نقاب کر دیا، کمشنر راولپنڈی نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے اور عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ میں غلط کام کرنے پر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں،?مجھے اور چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کو کہچری چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے، میں نے آج صبح فجر کی نماز کی بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی، مجھے الیکشن کروانے کے لیے تعینات کیا گیا لیکن میں شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہا، میں نے دھاندلی کروائی، جو لوگ رات ہار رہے تھے ان کو ہم نے صبح جتوا دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 14 امیدواروں کو غیر قانونی طور پر جتوایا ہے، میں نے آج صبح فجر کی نماز کی بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی، میں اپنے ریٹرننگ افسران سے معافی مانگتا ہوں، میں نے پوری قوم کے ساتھ ظلم کیا ہے، مجھے اور چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کو پھانسی دے دینی چاہیے، مجھے غلط کام کرنے کیلئے شدید دباو ڈالا گیا، میں قوم سے معافی مانگتا ہوں، میں تمام بیوروکریٹس کو کہتا ہوں کہ کوئی بھی غلط کام نہ کریں، دوبارہ الیکشن کرانے کی ضرورت نہیں، صرف فارم 45 اکٹھے کرلیں نتائج کلیئر ہو جائیں گے۔کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ بے ضابطگیاں چھوٹا لفظ ہے، اپنے ماتحت ریٹرننگ آفیسرز سے معذرت چاہتا ہوں، جب میں نے انہیں کہا آپ نے غلط کام کرنا ہے تو وہ بیچارے رُو رہے تھے، مجھ پر اب کوئی دباؤ نہیں، میرے باپ دادا انگریزوں سکھوں کیخلاف لڑے ہیں، اس ملک کو توڑنے کا حصہ نہیں بن سکتا، سوشل میڈیا اور اوورسیز پاکستانیوں کا بہت پریشر تھا، مجھے نیند نہیں آتی تھی۔