پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کولگام میں مسلمانوں نے کشمیری پنڈت خاتون کی آخری رسومات ادا کیں

سرینگر(پی پی آ ئی) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں اور کشمیری پنڈتوں نے بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قدیم روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ضلع کولگام کے علاقے کہروٹ میں ایک 84سالہ کشمیری پنڈت خاتون کی آخری رسومات مشترکہ طور پر ادا کیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بدری ناتھ رائنا کی اہلیہ سونی رائنا شوگر کے مرض میں مبتلا تھیں اور انتقال کر گئیں۔ مذکورہ خاندان نے 1990کی دہائی میں نقل مکانی نہیں کی تھی۔مقامی مسلمانوں نے گاؤں میں اس کی آخری رسومات کا اہتمام کیا اور اس کے لیے لکڑی کا بندوبست کیا۔ سونی رائنا کے شوہر بدری ناتھ رائنا نے بتایاکہ ہمارا اپنے گاؤں میں مسلم کمیونٹی سے گہرا تعلق ہے۔ مسلمانوں اور کشمیری پنڈتوں کے درمیان بھائی چارے کا رشتہ کئی دہائیوں سے قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی باشندوں نے آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔انہوں نے کہاکہ مسلمان ہمارے ساتھ اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میری بیوی ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھی اور وہ آج زندگی کی جنگ ہار گئی۔ بدری ناتھ نے کہاکہ ہم ان لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا۔ ہم نے اپنے وطن سے ہجرت نہیں کی۔ایک مقامی رہائشی غلام رسول نے بتایا کہ ہم انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور آج ہم نے اپنی پنڈت برادری کے لیے تمام انتظامات کیے۔انہوں نے اسلامی تعلیمات کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ اسلام ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے۔غلام رسول نے کہاکہ ہم محبت کو فروغ دیتے ہیں، نفرت کو نہیں۔ آج کا واقعہ ان لوگوں کے لیے ایک سبق ہے جو برادریوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری پنڈت خاندانوں کی حمایت جاری رکھیں گے کیونکہ وہ ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔