جنوبی ایشیاآبادی میں آگے لیکن فراہمی روزگار میں پیچھے

واشنگٹن(پی پی آئی)عالمی بینک کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی معیشتیں کام کرنے کی عمر والے افراد کی تعداد میں اضافہ اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں تال میل برقرار نہیں رکھ پارہی ہیں جس سے خطے کو آبادی سے فائدہ کے بجائے نقصان کا خطرہ ہے-جنوبی ایشیا کے لیے عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ فرانزسکا اوہنسورج نے کہا کہ “خطرہ اس بات کا ہے کہ آبادی میں اضافے کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2000 سے 2023 کے درمیان روزگار کی شرح میں سالانہ 1.7فیصد کا  جب کہ کام کرنے کی عمر والے افراد کی آبادی میں سالانہ 1.9فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان اعدادو شمار کے مطابق جنوب ایشیا خطے میں سالانہ دس ملین ملازمتیں پیدا ہوئیں جب کہ کام کرنے کی عمر والے افراد کی تعداد میں اوسطاً 19ملین کا اضافہ ہوا۔”ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں مشورہ دیا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جولیبر اور ملکی مارکیٹ کے ضابطوں کو ہموار اوربین الاقوامی تجارت کے لیے زیادہ وسعت پیدا کرسکیں۔

Latest from Blog